مظفرآباد میں انسانی زندگیوں سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے میونسپل مجسٹریٹ نے جعلی مصالحہ جات اور اشیاء خوردونوش فروخت کرنے والے گروہ کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ہے۔ اس کارروائی کے دوران لاہور سے منگوایا گیا غیر معیاری سامان قبضے میں لے کر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
میونسپل مجسٹریٹ مظفرآباد نے شہر میں جعلی مصالحہ جات اور کھیر مکس بیچنے والے ڈسٹریبیوٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ کارروائی کے دوران لاہور سے لوکل ٹرانسپورٹ کے ذریعے لائی جانے والی جعلی ‘لزیزہ کھیر’ کے متعدد کاٹن ضبط کر لیے گئے ہیں۔ حکام نے ملزمان کو حراست میں لے کر ان کے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی شروع کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محکمہ خوراک کا ہڑتالی افسران و ملازمین کیخلاف سخت ایکشن،60سے چارج واپس
کمیشن کا لالچ اور نوجوانوں کا استعمال:
دورانِ تفتیش یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ بااثر ڈیلرز نوجوانوں کو زیادہ کمیشن کا لالچ دے کر اصلی کمپنیوں کے نام پر جعلی اشیاء فروخت کرنے کے دھندے میں استعمال کر رہے ہیں۔ سول سوسائٹی کے وفد کی موجودگی میں مجسٹریٹ بلدیہ کے سامنے ڈیلر نے اعتراف کیا کہ 80 روپے ہول سیل ریٹ والا مصالحہ 20 روپے کمیشن کے عوض دکانوں پر 150 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔
اصلی اور جعلی کی پہچان میں مشکل:
مجسٹریٹ بلدیہ سردار عمران نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے نہ صرف ملزم کے خلاف کارروائی کا حکم دیا بلکہ متعلقہ کمپنیوں کے نمائندگان کو بھی فوری طور پر طلب کر لیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ جعلی اور اصلی مصالحہ جات کی پیکنگ اس قدر ہو بہو ہے کہ ایک عام شہری کے لیے ان کے درمیان فرق کرنا انتہائی مشکل ہے، جس کا فائدہ یہ مافیا اٹھا رہا ہے۔
سول سوسائٹی کا مطالبہ اور ٹرانسپورٹ نظام:
سول سوسائٹی مظفرآباد نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مجسٹریٹ بلدیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کمپنیوں کی لاپرواہی کا بھی نوٹس لیا جائے جن کے نام استعمال ہو رہے ہیں۔ مزید برآں، لوکل ٹرانسپورٹرز کی جانب سے اشیاء خوردونوش کی بلٹی کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ غیر قانونی سامان کی ترسیل کو روکا جا سکے۔




