ریڈ فاؤنڈیشن نے واضح اور غیر مبہم الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ ادارے کا کسی بھی سیاسی جماعت، بشمول جماعت اسلامی یا کسی دیگر گروہ، کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ ادارے کے نام، پلیٹ فارم، وسائل یا ساکھ کو کسی بھی قسم کی سیاسی مہم، انتخابی سرگرمی یا ووٹ کے حصول کے لیے استعمال کرنا سختی سے ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے ریڈ فاؤنڈیشن انتظامیہ نے باضابطہ سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام اساتذہ، سٹاف اور وابستگان کو ہدایت دی ہے کہ وہ کسی بھی سیاسی سرگرمی، مہم یا سوشل میڈیا پر ووٹ مانگنے جیسے عمل کا حصہ نہ بنیں۔ خلاف ورزی کی صورت میں فوری اور سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یہ فیصلہ اس پس منظر میں سامنے آیا ہے کہ ادارے کے چند عناصر کی جانب سے اساتذہ اور سٹاف پر سیاسی سرگرمیوں میں شرکت کے لیے دباؤ ڈالنے اور یتیم بچوں کے وظائف جیسے حساس معاملات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی شکایات سامنے آئیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:میرپور منگلہ ڈیم متاثرین کا دیرینہ خواب پورا، وزیراعظم آزاد کشمیر کی موجودگی میں آلاٹمنٹ آرڈرز کی تقسیم
اس معاملے پر ذیشان حیدر کی جانب سے پریس کانفرنس کے بعد ریڈ فاؤنڈیشن کے بورڈ کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ان خدشات کو درست تسلیم کرتے ہوئے فوری اصلاحی اقدامات کی منظوری دی گئی اور ایک جامع ہدایت نامہ جاری کیا گیا۔
ریڈ فاؤنڈیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ادارہ اپنی فلاحی اور تعلیمی ذمہ داریوں کو مکمل غیرجانبداری، شفافیت اور دیانت کے ساتھ جاری رکھے گا، اور کسی بھی قسم کے سیاسی اثر و رسوخ کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:نئے مالی سال 27-2026 کے بجٹ کی تیاریاں؛ تاجر برادری نے حکومت کو اہم تجاویز پیش کر دیں
مزید برآں، ادارہ تمام متعلقہ حلقوں کو متنبہ کرتا ہے کہ ریڈ فاؤنڈیشن کے نام کو ذاتی یا سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے سے فوری طور پر باز رہا جائے، بصورت دیگر قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھا جاتا ہے۔
میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے جہلم ویلی کے سیاسی و سماجی حلقوں نے ریڈ فاؤنڈیشن کی جانب سے بروقت سرکلر جاری کرنے اور معاملے کی نشاندہی پر اصلاحی اقدامات کو سراہا، اور اس امر پر زور دیا کہ ادارے کے نام پر سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت احتساب ہونا چاہیے۔




