ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہے، وہاں قیامِ امن کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں،وزیراعظم پاکستان

وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی انتھک سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر جاری ہے، جو خطے کے امن کے لیے ایک بڑی پیشرفت ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کے کلیدی کردار اور ملک کو درپیش معاشی چیلنجز پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

ایران امریکا مذاکرات اور پاکستان کا کلیدی کردار:

بدھ کو اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور میں 21 گھنٹے کی طویل نشست ہوئی، جس میں پاکستان نے کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہے اور وہاں قیامِ امن کے لیے پاکستان کی کوششیں اب بھی جاری ہیں۔ شہباز شریف نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہا، جنہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان امن کے لیے انتھک محنت کی۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران محسن نقوی کا کردار بھی انتہائی اہم رہا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عمان اور روس کے دورے کے بعد یقین دلایا ہے کہ وہ اپنی قیادت سے بات چیت کے بعد حتمی جواب دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ،ماہرین نے انتباہ جاری کردیا

تیل کی قیمتوں کا بحران اور معاشی چیلنجز:

وزیراعظم نے ملک کو درپیش معاشی چیلنجز پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خام تیل کی قیمتیں عالمی سطح پر ایک بار پھر آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان کو انتہائی چیلنجنگ صورتحال کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تیل کی قیمتوں کا بوجھ 30 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ وزیراعظم نے اعلان کیا کہ جمعہ کو تیل کی قیمتوں کا دوبارہ تعین کیا جانا ہے، جو موجودہ حالات میں ایک کٹھن مرحلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پہاڑ جیسے مسائل حل کرنے کے لیے دن رات محنت کرنی ہوگی۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اجتماعی کوششوں سے صورتحال کو پوری طرح کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کا بحران اور پاکستان کی ثالثی:

واضح رہے کہ فروری 2026 سے ایران اور اسرائیل، امریکا کے درمیان شروع ہونے والی کشیدگی نے عالمی سطح پر توانائی کا بحران پیدا کر رکھا ہے۔ جنگی حالات کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت متاثر ہوئی، جس سے سپلائی چین متاثر ہوئی اور خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ پاکستان نے ہمیشہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کیا ہے۔ حالیہ ’سیز فائر‘ (جنگ بندی) میں پاکستان کی شمولیت اس کی اسٹرٹیجک اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دفاعی ڈپلومیسی نے اس نازک مرحلے پر فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کا اعتراف وزیراعظم نے کابینہ اجلاس میں کیا۔

معاشی دباؤ اور سفارتی کامیابی کا توازن:

وزیراعظم شہباز شریف کا وفاقی کابینہ سے خطاب دو مختلف پہلوؤں کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک طرف پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کرا کر عالمی سطح پر اپنا قد بلند کیا ہے، لیکن دوسری طرف جنگ کے اثرات نے پاکستان کے درآمدی بل (امپورٹ بل) کو 30 کروڑ سے 80 کروڑ ڈالر تک پہنچا دیا ہے۔ یہ 50 کروڑ ڈالر کا اضافی بوجھ ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے۔ جمعہ کو ہونے والا فیصلہ حکومت کے لیے سیاسی طور پر مشکل ہوگا۔ سویلین اور عسکری قیادت کا ایک صفحے پر ہونا ہی اس طویل (21 گھنٹے کی) نشست کو کامیاب بنانے کا سبب بنا۔ عباس عراقچی کا عمان اور روس کے بعد پاکستان کے ساتھ رابطے میں رہنا ظاہر کرتا ہے کہ خطے کا مستقبل یقیناً اب اسلام آباد کے فیصلوں سے جڑا ہے۔

مزید پڑھیں: پیٹرولیم ذخائر کی صورتحال تشویشناک، پیٹرول اور ڈیزیل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا خدشہ

Scroll to Top