سنیچر کی شب واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس رپورٹرز کے عشائیے میں فائرنگ کا ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے میں ملوث مشتبہ حملہ آور کے حوالے سے اب مزید سنسنی خیز تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔ امریکہ کے قائم مقام اٹارنی جنرل نے اس حوالے سے اہم بیان جاری کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ حملہ آور ممکنہ طور پر امریکی صدر اور اُن کی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدے داروں کو اپنا نشانہ بنانا چاہتا تھا۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کی تنظیم کی جانب سے ایک بڑے عشائیے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جس وقت فائرنگ ہوئی، اس تقریب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتون اول میلانیا ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سمیت امریکہ کے متعدد اعلیٰ حکام وہاں موجود تھے۔ فائرنگ کے فوراً بعد صدر اور ان دیگر اعلیٰ شخصیات کی حفاظت پر مامور سیکرٹ سروس نے انتہائی مستعدی دکھائی اور ان تمام افراد کو وہاں سے بحفاظت نکال لیا۔
یہ بھی پڑھیں: فائرنگ کے واقعے پر صدر ٹرمپ کا ردعمل اور ایران جنگ کے حوالے سے اہم بیان
اس واقعے کے فوراً بعد صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات چیت کی اور بتایا کہ حملہ آور کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ بعد ازاں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے بھی باقاعدہ طور پر اس بات کی تصدیق کی کہ مشتبہ شخص ان کی گرفت میں ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی میڈیا اب اس 31 سالہ شخص کی شناخت کول تھامس ایلن کے نام سے کر رہا ہے۔ تحقیقات کے دوران کول تھامس کی ٹرمپ مخالف سوشل میڈیا پوسٹس بھی سامنے آئی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ حملے سے متعلق اس کے لکھے ہوئے کچھ نوٹس کا بھی حوالہ دیا جا رہا ہے جن کی چھان بین جاری ہے۔




