دباؤ میں مذاکرات نہیں ہوں گے، ایرانی صدر کا امریکہ کو دو ٹوک جواب

تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ کے حوالے سے اپنے سخت مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی قسم کے دباؤ کے تحت مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھے گا۔

ایرانی صدر نے اپنے بیان میں دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ بامعنی بات چیت صرف اسی صورت ممکن ہے جب کیے گئے معاہدوں پر مکمل عمل درآمد کیا جائے۔ انہوں نے امریکہ کے حالیہ طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے متضاد اشارے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں، جس سے مذاکرات کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بڑا دھچکا، کابینہ کی اہم رکن لوری شاویز مستعفی

صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران کا امریکہ پر عدم اعتماد ایک تاریخی حقیقت ہے، کیونکہ ماضی میں کیے گئے وعدے کبھی پورے نہیں کیے گئے۔ انہوں نے امریکہ کے مطالبے کو “ہتھیار ڈالنے” جیسا رویہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم کبھی بھی طاقت کے آگے سر نہیں جھکائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور مسائل کا پائیدار حل صرف سفارت کاری میں پوشیدہ ہے، تاہم اس کے لیے برابری اور احترام کی بنیاد پر بات چیت ضروری ہے۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی صدر کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکرات کو ہتھیار ڈالنے کی کوشش میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں، جو کہ کسی صورت ممکن نہیں۔ صدر پزشکیان نے حکومتی عہدیداروں کو بھی ہدایت کی کہ وہ عوام کو درست معلومات فراہم کریں کیونکہ غیر حقیقی وعدے اور غلط معلومات مسائل کو مزید الجھانے کا سبب بنتی ہیں۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات میں معاہدہ نہ کیا تو پورا ایران تباہ ہو جائے گا،ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

Scroll to Top