رفاقت گجر قتل کیس کا ڈراپ سین: ‘قاتل گھر میں ہے’، پولیس نے گتھی سلجھا لی

حویلی: ضلع حویلی کے مشہورِ زمانہ رفاقت گجر قتل کیس کا بالآخر ڈراپ سین ہو گیا ہے۔ پولیس نے انتہائی نفاست اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ تفتیش مکمل کرتے ہوئے اصل قاتل کو مقتول کے اپنے ہی گھر سے گرفتار کر لیا ہے، جس نے نہ صرف اقبالِ جرم کر لیا بلکہ آلہ قتل بھی برآمد کروا دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر سیاسی و سماجی شخصیت باسط فاروقی کی جانب سے شیئر کی گئی تفصیلات کے مطابق، قتل کے فوراً بعد ایک انتہائی ذہین پولیس آفیسر نے، جو صرف تین دن تفتیشی ٹیم کا حصہ رہے، یہ پیشگوئی کر دی تھی کہ “قاتل گھر میں ہے” اور جب بھی اصل ملزم ملے گا وہ رفاقت گجر کے گھر سے ہی ملے گا۔ باسط فاروقی کے مطابق تفتیش کے دوران مقتول کی والدہ کے متضاد بیانات بھی شکوک و شبہات پیدا کرتے رہے، جو کبھی تفتیشی ٹیم پر اطمینان اور کبھی عدم اعتماد کا اظہار کر کے معاملے کو طول دیتی رہیں۔

یہ بھی پڑھیں: رفاقت گجر قتل کیس کا ڈراپ سین: ‘قاتل گھر میں ہے’، پولیس نے گتھی سلجھا لی

اس حساس کیس کے دوران جہاں پورا کیرنی گاؤں دکھ اور کرب کی کیفیت میں مبتلا رہا، وہیں کچھ مخصوص حلقوں کی جانب سے اس کیس کو سیاسی رنگ دینے اور معززینِ علاقہ، بالخصوص چوہدری عزیز کے خاندان اور علی طالب کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے کی کوشش بھی کی گئی۔ تاہم، وزیراعظم آزاد کشمیر نے ریاست کے چیف ایگزیکٹو ہونے کے ناطے سیاسی مداخلت کے بجائے پولیس کو “فری اینڈ فیئر” انویسٹی گیشن کے احکامات دے کر اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دیا۔

حویلی کی سیاسی و سماجی قیادت، بشمول راجہ فیصل ممتاز راٹھور، انجینئر چوہدری محسن عزیز، خواجہ طارق سعید، چوہدری عامر نذیر، شجاع خورشید راٹھور، پیر علی رضا بخاری، سمیر صدیقی اور حویلی یوتھ الائنس کے نوجوانوں نے اس کیس میں بھرپور آواز اٹھائی۔ باسط فاروقی نے مزید کہا کہ اگرچہ پولیس نے ایک ماں کو دو بیٹوں کے دکھ سے بچانے کے لیے حکمتِ عملی کے تحت آہستہ روی سے کام لیا، لیکن ایس پی حویلی عامر محبوبی اور بالخصوص ایس پی باغ ریاض مغل کی سربراہی میں ٹیم نے کیس کو منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیا۔

Scroll to Top