صنعا/بیروت: مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک بار پھر انتہائی نازک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ یمن کے حوثی باغیوں نے دنیا کی اہم ترین آبی گزرگاہ “باب المندب” کو مکمل طور پر بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے، جبکہ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ نے مجوزہ جنگ بندی کے معاہدے کو “یکطرفہ اور توہین آمیز” قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ ان دو بڑے اعلانات نے عالمی منڈی اور علاقائی امن کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
یمن کی حوثی حکومت کے نائب وزیر خارجہ حسین العزی نے سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا جاری رکھا تو باب المندب کو بند کر دیا جائے گا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا، “اگر صنعا نے باب المندب بند کرنے کا فیصلہ کر لیا، تو اسے کھولنے کے لیے انسان اور جن دونوں بے بس ہو جائیں گے۔” واضح رہے کہ یہ گزرگاہ عالمی تجارت اور خلیجی تیل کی سپلائی کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی ایرانی تہذیب مٹانے کی دھمکی، ایرانی سفارت خانے کا فنِ تعمیر کے شاہکاروں سے کرارا جواب
ادھر لبنان میں حزب اللہ کے سربراہ نعیم القاسم نے مجوزہ جنگ بندی کے فارمولے کو مسترد کرتے ہوئے اسے لبنان کی خودمختاری کے خلاف قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا سیز فائر جو ایک فریق کو کھلی چھوٹ دے اور دوسرے کو پابندیوں میں جکڑ دے، وہ کسی صورت قبول نہیں۔ ماہرینِ سیاسیات کا کہنا ہے کہ باب المندب کی ممکنہ بندش اور حزب اللہ کا سخت موقف عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور خطے میں ایک بڑے فوجی تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔




