ہٹیاں بالا (کشمیر ڈیجیٹل/عمر بھٹی راجپوت)پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما و ممبر ضلع کونسل آصف اقبال مغل نے کہا ہے کہ پارٹی کے درینہ اور نظریاتی کارکنان کو مسلسل نظر انداز کرنا ناانصافی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ وہ کارکنان جو گزشتہ 15 سال سے ہر مشکل وقت میں پارٹی کیساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے رہے، آج نظر انداز کیے جا رہے ہیں ۔
آصف اقبال مغل کے مطابق ان کارکنان کا واحد ’’قصور ‘‘یہ ہے کہ وہ نظریے کی بات کرتے ہیں، کسی گروپ بندی کا حصہ نہیں بنتے اور صرف عمران خان کو اپنا لیڈر مانتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ یہی کارکنان ہر احتجاج میں فرنٹ لائن پر موجود رہے ، گرفتاریاں برداشت کیں، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا سامنا کیا، مگر اس کے باوجود پارٹی کے ساتھ ڈٹے رہے ۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج پارٹی میں قربانیاں دینے والوں کو نظر انداز کر کے ایسے افراد کو اہم ذمہ داریاں دی جا رہی ہیں جن کی کوئی نمایاں خدمات نہیں ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی آزادکشمیر کا پارلیمانی بورڈ قائم ہونے پر اختلافات ،راجہ منصور کا کھڑاک
ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے غیر منصفانہ اور بغیر مشاورت کے فیصلے پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں ۔
آصف اقبال مغل نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی ایسے فیصلوں کے باعث مشکل وقت میں کئی لوگ پارٹی چھوڑ گئے جبکہ نظریاتی کارکنان ہی ثابت قدم رہے ۔
انہوں نے پارلیمانی بورڈ میں یوتھ اور خواتین کی نمائندگی کو نظر انداز کرنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اسے پارٹی منشور کے خلاف قرار دیا ۔
انہوں نے پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے مطالبہ کیا کہ تمام اہم عہدوں، خصوصاً پارلیمانی بورڈ میں درینہ، مخلص اور نظریاتی کارکنان کو شامل کیا جائے تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو اور پارٹی کا حقیقی تشخص سامنے آئے ۔
آخر میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس بار بھی نظریاتی کارکنان کو نظر انداز کیا گیا تو پارٹی کو مزید نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:الیکشن کی شفافیت کیلئے پی ٹی آئی آزاد کشمیر کی رجسٹریشن ناگزیز ، عبدالقیوم نیازی
انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ قیادت نوٹیفکیشن پر نظرثانی کرتے ہوئے ایک متوازن اور نمائندہ پارلیمانی بورڈ تشکیل دے گی، بصورت دیگر نظریاتی کارکنان سخت ردعمل دینے پر مجبور ہوں گے ۔




