کرن عزیز کشمیری

ایران جنگ: خطے کا امن، خلیجی برآمدات، توانائی خطرے میں

شیطانی تکون
تحریر کنندہ : کرن عزیز کشمیری
Kiranazizkashmiri@gmail.com

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے نتیجے میں خطے کا امن، خلیجی برآمدات توانائی خطرے میں ہیں۔
غور طلب امر یہ ہے کہ کون سے ممالک جنگ کے خواہاں ہیں اور کون نہیں چاہتے کہ خطے میں امن، ترقی و خوشحالی ہو۔
بھارت-اسرائیل گٹھ جوڑ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔دونوں ممالک مل کر مسلمانوں پر ظلم و ستم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
فلسطینی اور کشمیری مسلمان اپنے اپنے حصے کی آزادی کی جنگ لڑتے ہوئے شہید ہوئے ہیں اور مسلسل حالت جنگ میں ہیں۔
ایران جنگ میں اسرائیل نے مسجد اقصی میں نماز جمعہ پر پابندی عائد کر دی، جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی مسلمان عبادات آزادی سے ادا کرنے سے قاصر ہیں۔
قابض بھارتی فوج کشمیری مسلمانوں پر ظلم ڈھاتے ڈھاتے خودکشی کرنے پر مجبور ہیں۔
امریکہ خود کو علاقے کا بدمعاش سمجھتا ہے، جبکہ بھارت خطے کا ٹھیکیدار بننے کی کوشش میں مصروف عمل رہتا ہے اور اس ضمن میں دنیا میں جگہ ہسائی کا سبب بن جاتا ہے۔
امریکہ بارہا یہ اعلان کر چکا ہے کہ وہ خطے کا طاقتور ترین ملک ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ایران کا جوابی وار، امریکی اینٹی ڈرون،ارلی وارننگ ریڈار سسٹم تباہ،عملہ نشانہ بن گیا

حال ہی میں ایران جنگ میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ طاقت اسلحے کا نام نہیں بلکہ جذبے کا صحیح استعمال ہی طاقت کہلاتا ہے۔
اب تک کی جنگی کارروائیوں میں ایران کا پلڑا بھاری ہے، جبکہ اسرائیلی عوام اپنے حکمرانوں کی جانب سے شروع کی گئی اس جنگ سے ناخوش ہیں اور اپنی جانیں بچانے کے لیے بنکروں میں چھپنے پر مجبور ہیں۔
اور اطلاعات کے مطابق سائرن بجنے کی مسلسل آوازوں کے اثرات سے بھی متغیر ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران کے خلاف فوجی کاروائیاں کیں۔ زام یہ تھا کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش میں مصروف ہے اور اگر اسے روکا نہ گیا تو اپنے ہدف تک پہنچ سکتا ہے۔
اسرائیل نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ ایران جلد ایٹمی ہتھیار بنائے گا اور ان ہتھیاروں کو اسرائیل کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل ایران کی جانب سے حملے کے خوف میں مبتلا رہا اور ایران پر جنگ مسلط کرنے کے جواز تلاش کرتا رہا۔
اس سلسلے میں اسرائیل کو خطے کے نام نہاد طاقتور ملک امریکہ کی سرپرستی شدت سے درکار تھی۔
واضح رہے کہ ایٹمی صلاحیت کی نگرانی کرنے والے عالمی ادارے نے متعدد بار اپنی رپورٹ میں ایران کی ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوششوں کی نفی کی ہے۔
اہم امر یہ ہے کہ اسرائیل کو 40 برس سے یہ خدشہ تھا کہ ایران ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرے گا۔
اسرائیل کی غزہ پر وحشیانہ بمباری سے ہزاروں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
دو سال کے دوران تقریبا 60 ہزار فلسطینی اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے۔
اسرائیل اور امریکہ وقتی طور پر خوش ہیں کہ مسلم ممالک آپس میں ہی اختلافات کا شکار ہیں اور ان کے آپس کے مسائل کی وجہ سے اس شیطانی تکون یعنی بھارت، امریکہ اور اسرائیل کو کوئی فائدہ حاصل ہوگا۔
تو ان ممالک کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جیسے جیسے خطے میں حالات بدلیں گے یہ جنگ طویل پکڑے گی تو سب سے زیادہ نفرت کا شکار بھی یہ ممالک ہوں گے۔
امریکہ اور اسرائیل کو ایران پر بلاوجہ یہ جنگ مسلط کرنے پر ویسے بھی پذیرائی نہیں مل رہی۔
اس ضمن میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ جنگ معاشی مفادات کی جنگ ہے جسے امریکہ مذہبی رنگ دینے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
پینٹاگون نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ ان کے ہتھیاروں کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔
امریکہ ایران کو نقصان پہنچانے کے چکر میں اپنے نقصانات کی طرف بھی دیہان دیں، کیونکہ دوسری جانب تیل کی سپلائی بھی شدت سے متاثر ہو رہی ہے۔
خطے کے دوسرے ممالک بھی نام نہاد جنگ کے زیر اثر ہیں، جبکہ اگر حالات پر قابو نہ پایا گیا تو مہنگائی کا ایک طوفان کھڑا ہوگا۔
امریکہ معاشی طور پر اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر چوہدراہٹ قائم نہیں کر سکتا۔
اسرائیل کو بھی اس بات کا ادراک ہے کہ امریکہ کے زوال کے بعد اس کا زوال تو یقینی ہے۔
اس سلسلے میں اہم امر یہ ہے کہ امریکہ کے جنگ کے فیصلے کے حوالے سے کئی مغربی ممالک بھی ناخوش ہیں اور سمجھتے ہیں کہ امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر نہ صرف ایران پر بلاوجہ جنگ مسلط کی بلکہ ان کے معاشی مفادات بھی متاثر کرنے میں شامل ہیں۔
یہ ایک خوفناک صورتحال ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایسے مفادات کے حصول کے لیے خطے کو بہت بڑے خطرے سے دوچار کر رہے ہیں۔
بھارت، امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کا مکمل طور پر حامی ہے۔
بھارت نہیں چاہتا کہ مذاکرات کے ذریعے امن قائم ہو۔
بھارت صرف پاکستان کا دشمن نہیں، اسلام کا بھی دشمن ہے۔
بھارتی وزیراعظم کا دوران جنگ اسرائیل کی حمایت کرنا واضح کرتا ہے کہ یہ ملک اپنی پالیسی میں کہاں کھڑا ہے، جبکہ نریندر مودی حالیہ اسرائیل کا دورہ کر چکے ہیں اور تنقید کا شکار بھی رہے ہیں۔
اگر دنیا نے اب بھی بھارت، امریکہ اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ کو نہ سمجھا تو تیسری عالمی جنگ کی قیامت برپا ہو سکتی ہے۔
اس وقت امت مسلمہ علاقائی اتحاد قائم کرے اور خطے کے امن کے لیے کوششیں تیز کرے۔

Scroll to Top