سلمان علی آغا

ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی : آئی سی سی نے سلمان علی آغا کیخلاف ایکشن لے لیا

ڈھاکہ (کشمیر ڈیجیٹل)پاکستان کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹر سلمان علی آغا کو بنگلہ دیش کیخلاف کھیلے گئے دوسرے ون ڈے میچ کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے سرزنش کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔

آئی سی سی نے اس واقعے پر کارروائی کرتے ہوئے قومی کرکٹر کے نام ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی درج کر دیا ہے ۔

آئی سی سی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق سلمان علی آغا نے میچ کے دوران آؤٹ ہونے کے بعد اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھا اور غصے میں بیٹنگ گلوز اور ہیلمٹ زمین پر پھینک د ئیے۔

انٹر نیشنل کونسل کے مطابق یہ طرزِ عمل کھیل کے ضابطہ اخلاق کے منافی ہے اور اسی بنا پر اسے کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 2.2 کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ۔

آرٹیکل 2.2 کے تحت کسی بھی کھلاڑی کی جانب سے کرکٹ کے سامان، میدان یا اس کے اطراف موجود چیزوں کے ساتھ غصے یا ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے نامناسب برتاؤ کرنا قابلِ سزا سمجھا جاتا ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی: آئی سی سی نے سلمان علی آغا کیخلاف ایکشن لے لیا

آئی سی سی حکام کا کہنا ہے کہ کھیل کے دوران کھلاڑیوں سے پیشہ ورانہ اور ذمہ دارانہ رویے کی توقع کی جاتی ہے تاکہ کھیل کے وقار کو برقرار رکھا جا سکے ۔

واقعے کے بعد آئی سی سی میچ ریفری نے معاملے کا جائزہ لیا اور سلمان علی آغا کو باضابطہ طور پر سرزنش کرتے ہوئے ایک ڈی میرٹ پوائنٹ دیدیا ۔

اس طرح کے پوائنٹس کھلاڑی کے ریکارڈ میں شامل کیے جاتے ہیں اور اگر مقررہ مدت کے دوران ڈی میرٹ پوائنٹس کی تعداد زیادہ ہو جائے تو کھلاڑی کو معطلی جیسی سخت سزا کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے ۔

یاد رہے کہ ڈی میرٹ پوائنٹس عام طور پر 24 ماہ کے عرصے تک کھلاڑی کے ریکارڈ میں برقرار رہتے ہیں ۔ اگر اس دوران مزید خلاف ورزیاں ہوں اور پوائنٹس کی تعداد بڑھ جائے تو آئی سی سی قوانین کے مطابق میچ فیس جرمانہ یا میچوں سے پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:بھارتی کرکٹر محمد کیف بھی سلمان علی آغا کے حق میں میدان میں آگئے، بنگلادیشی کپتان کو سنا دیں

کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ میدان میں جذبات کا اظہار فطری بات ہے، تاہم بین الاقوامی سطح پر کھیلنے والے کھلاڑیوں کو اپنے رویے پر قابو رکھنا ضروری ہوتا ہے تاکہ کھیل کے اصول اور اس کی ساکھ برقرار رہ سکے ۔

Scroll to Top