مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے 13 ویں روز صورتحال انتہائی سنگین ہو گئی ہے، جہاں ایک طرف سمندری حدود میں آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا ہے تو دوسری طرف حزب اللہ نے اسرائیل کے اہم ترین فوجی و انٹیلی جنس مراکز پر میزائلوں اور ڈرونز کی بارش کر دی ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ نے جمعرات کی صبح تل ابیب کے مضافات میں واقع اسرائیل کے مشہور 8200 انٹیلی جنس یونٹ کے مرکز پر “نوعی” راکٹوں سے حملہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے شمالی اسرائیل میں یاعرا بیرکس پر ڈرون حملے کیے، جبکہ بیت لِد فوجی اڈے، تل ابیب کے قریب گلیلوٹ بیس اور حیفا کے نزدیک واقع اٹلیٹ بیس کو بھی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی لبنان میں موجود اسرائیلی فوجی دستوں پر توپ خانے سے گولہ باری کی گئی اور اسرائیلی شہر نہاریہ کی جانب بھی راکٹ داغے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ میں پاکستان کا دو ٹوک مؤقف، ایران پر حملوں کی مذمت اور روسی قرارداد کی حمایت
ان حملوں کے جواب میں اسرائیل نے جنوبی بیروت میں حزب اللہ کے 10 ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔ لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق ان جاری حملوں میں اب تک 634 شہری جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں زخمی اور 8 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب امریکی و اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران میں جانی نقصان کی تعداد 1300 سے تجاوز کر گئی ہے، 12 ہزار افراد زخمی ہیں اور 10 ہزار سے زائد عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔
خلیجی ممالک بھی اس کشیدگی کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔ کویت کے جنوبی علاقے میں فجر کے وقت ایک رہائشی عمارت پر ڈرون حملہ ہوا جس میں دو افراد زخمی ہوئے۔ متحدہ عرب امارات کے قریب جبلِ علی سے 35 ناٹیکل میل دور ایک کنٹینر جہاز کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا جس سے جہاز پر آگ لگ گئی، تاہم عملہ محفوظ رہا۔ عراق کی سمندری حدود میں فیول آئل لے جانے والے دو غیر ملکی ٹینکرز پر بھی حملے ہوئے جن میں آگ لگنے کے باعث ایک شخص ہلاک ہو گیا، جبکہ 25 ارکان کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔ عمان کی سلالہ پورٹ پر بھی تیل کے ذخیرے میں آگ لگ گئی ہے، جس کا الزام ایران پر لگایا جا رہا ہے تاہم ایران نے اسے علاقائی تناؤ بڑھانے کی سازش قرار دے کر تردید کی ہے۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کئی روز سے کوشش میں ہیں کہ جنگ بندی کا اعلان ہو، ایرانی جنرل کا بڑا دعویٰ
اسرائیل نے وسطی ایران میں اصفہان کے ایوی ایشن کالج اور تہران کے مغرب میں واقع کرج کے مقامات پر بھی بمباری کی ہے۔ واضح رہے کہ 28 فروری کو جنگ کے آغاز سے اب تک امریکہ اور اسرائیل ایران کے ایٹمی مقامات اور قیادت کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ جنگ کے پہلے ہی دن ہونے والے حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور، چیف آف جنرل اسٹاف عبدالرحیم موسوی اور وزیرِ دفاع کی شہادت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔




