ملک کے معروف عالمِ دین مفتی منیب الرحمٰن سے ایک شہری نے زکوٰۃ کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور حساس سوال پوچھا۔ سائل کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ ہر سال رمضان المبارک میں اپنے مال اور اہلیہ کے سونے چاندی کے زیورات کی زکوٰۃ باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔ تاہم، اس سال رمضان شروع ہونے سے محض 15 دن پہلے انہوں نے اپنا ایک مکان فروخت کیا ہے جس کی خطیر رقم اب ان کے پاس موجود ہے۔ سائل کی نیت یہ ہے کہ اس رقم کو کاروبار میں لگا کر کچھ وقت بعد دوبارہ مکان خریدیں گے۔ ان کا بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا اس نئی رقم پر بھی زکوٰۃ فرض ہوگی جبکہ اسے حاصل ہوئے ابھی پورا سال مکمل نہیں ہوا؟
مفتی منیب الرحمٰن کا جواب اور بنیادی شرعی اصول:
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق،مفتی منیب الرحمٰن نے اس مسئلے پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ چونکہ سائل پہلے سے صاحبِ نصاب ہے اور ہر سال رمضان المبارک میں اپنی زکوٰۃ ادا کرنے کا ایک طے شدہ معمول رکھتا ہے، اس لیے زکوٰۃ کی ادائیگی کی مقررہ تاریخ سے کچھ وقت پہلے بھی اگر کوئی مزید مال اس کی ملکیت میں آتا ہے، تو اس پر بھی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ شرعی طور پر زکوٰۃ واجب ہونے کے لیے مال کے ہر ہر حصے یا ہر ہر جُزو پر الگ سے پورا سال گزرنا ہرگز شرط نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: زیرِ استعمال سونے اور چاندی کے زیورات پر زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟وضاحت سامنے آگئی
جلیل القدر ائمہ اور معتبر فقہی کتب کے علمی حوالے:
اپنے فیصلے کو مستند ثابت کرنے کے لیے مفتی صاحب نے فقہ کی قدیم اور معتبر کتابوں کے اقتباسات پیش کیے:
شیخ الاسلام علامہ ابوبکر بن علی بن محمد الحداد یمنی اپنی مشہور کتاب “الجوہرۃ النّیّرۃ” (صفحہ: 173) میں تحریر کرتے ہیں کہ جو شخص پہلے سے مالکِ نصاب ہو، اگر وہ سال کے دوران اسی جنس کا مزید مال حاصل کرے، تو اسے پہلے سے موجود مال میں شامل کر کے اس کی زکوٰۃ ادا کرے۔ خواہ وہ مال پہلے مال سے ہونے والے منافع (نمو) کی صورت میں ملا ہو یا وراثت، ہبہ (تحفہ) یا کسی اور جائز ذریعے سے حاصل ہوا ہو۔ اس کے لیے صرف یہ شرط ہے کہ وہ مال اسی جنس (مثلاً نقد رقم یا سونا چاندی) سے تعلق رکھتا ہو۔
اسی طرح “تنویر الابصار مع الدرالمختار” میں بھی یہی مسئلہ بیان کیا گیا ہے کہ سال کے درمیان میں جو بھی مال حاصل ہو، چاہے وہ ہبہ، خرید و فروخت، وراثت یا وصیت کے ذریعے ملے، اسے ہم جنس نصاب میں شامل کیا جائے گا۔ اس عمل سے “حولِ اصل” یعنی بنیادی سال کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔
اس مسئلے کی مزید تشریح کرتے ہوئے علامہ ابن عابدین شامی “ردالمحتار علیٰ الدرالمختار” (جلد 2، صفحہ: 288) میں لکھتے ہیں کہ اگر کوئی چیز سال کے اختتام سے صرف ایک دن پہلے بھی حاصل ہوئی ہو، تو اسے پہلے سے موجود نصاب میں ملایا جائے گا اور پورے مال کی مجموعی مالیت پر زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔
تاجروں اور تنخواہ دار طبقے کے لیے زکوٰۃ کا حساب:
مفتی منیب الرحمٰن نے اس فیصلے کی حکمت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اگر زکوٰۃ کے لیے مال کے ہر حصے پر الگ سے سال گزرنے کی شرط کو لازمی قرار دے دیا جائے، تو تاجر حضرات کے لیے زکوٰۃ کا حساب نکالنا (Assessment) عملاً ناممکن ہو جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کاروبار میں مال کی آمد اور خرچ کا سلسلہ روزانہ کی بنیاد پر جاری رہتا ہے۔ اسی طرح ایک تنخواہ دار ملازم بھی ہر ماہ اپنی تنخواہ سے کچھ نہ کچھ رقم بچاتا ہے، جس کی وجہ سے ہر ماہ بچنے والی رقم کی مدت الگ ہوتی ہے۔
شرعی اصول یہ ہے کہ دورانِ سال شامل ہونے والے مال کا الگ سے کوئی سال شمار نہیں کیا جاتا، بلکہ درمیانِ سال میں حاصل ہونے والا مال جتنا بھی ہو اور جب بھی شامل ہو، اس کا وہی سال تصور ہوگا جو بنیادی نصاب کا مقررہ سال ہے۔ بشرطیکہ وہ مال سابقہ مال کی جنس میں سے ہو۔
مزید پڑھیں: محکمہ مذہبی امور آزاد کشمیر نے فطرانہ اور روزوں کے فدیہ کی تفصیلات جاری کر دیں
مذکورہ بالا تمام تشریحات اور فقہی حوالوں کی روشنی میں یہ بات طے ہے کہ زکوٰۃ کی تشخیص کی مقررہ تاریخ سے چند دن قبل بھی اگر مال کسی “صاحبِ نصاب” کی ملکیت میں آ جائے، تو اسے پہلے سے موجود مال میں شامل کر کے کل مالیت پر زکوٰۃ ادا کرنا شرعی طور پر ضروری ہے۔ لہٰذا، اگر زکوٰۃ ادا کرنے کی مقررہ تاریخ سے پہلے سائل کو مکان کی قیمت وصول ہو گئی تھی، تو اسے دیگر مال میں شامل کر کے اس کی زکوٰۃ دینی ہوگی۔




