بیٹھک اعوان آباد،آرمی پبلک سکول میں ریسکیو مشقیں،طلباء کی بڑی تعداد کی شرکت

بیٹھک اعوان آباد (نمائندہ خصوصی)موجودہ ملکی و بین الاقوامی کشیدگی کے پیش نظر ہنگامی حالات سے نمٹنے اور عوام الناس خصوصاً تعلیمی اداروں کے طلباء و اساتذہ کو کسی بھی ناگہانی صورتحال کیلئے تیار رکھنے کے حوالے سے ایکسرسائز کا انعقاد

ڈائریکٹر جنرل ریسکیو 1122، ایس ڈی ایم اے اور ڈپٹی کمشنر سدھنوتی کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں ریسکیو 1122 کے زیر اہتمام آرمی پبلک سکول میں ایک جامع موک ایکسرسائز کا انعقاد کیا گیا۔

جس کی نگرانی اسسٹنٹ ڈائریکٹر ریسکیو 1122 محمد آصف نے کی ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:برطانیہ کا 4 ممالک پر ویزا پابندیاں عائد کرنے کا اعلان

اس موک ایکسرسائز کا بنیادی مقصد طلبہ، اساتذہ اور عملے کو کسی بھی ہنگامی صورتحال، بم کی اطلاع، آتشزدگی یا دیگر ممکنہ حادثات کے دوران بروقت اور منظم ردِعمل کی تربیت دینا تھا۔ ایکسرسائز میں Rescue 1122 کے تربیت یافتہ اہلکاروں کے ساتھ سول ڈیفنس، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور پولیس کے جوانوں نے بھرپور شرکت کی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آئی جی لیاقت علی ملک ایمز ہسپتال پہنچ گئے،زیرعلاج اہلکار ودیگر افراد کی خیریت دریافت

منصوبہ بندی کے تحت ایک فرضی ہنگامی صورتحال پیدا کی گئی جس پر فوری رسپانس دیتے ہوئے ریسکیو ٹیموں نے متاثرہ افراد کے محفوظ انخلاء، ابتدائی طبی امداد کی فراہمی، علاقے کو گھیرے میں لینے اور سرچ آپریشن جیسے اقدامات عملی طور پر انجام دیے۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے مشکوک شے کی نشاندہی اور محفوظ طریقہ کار کے مطابق کارروائی کی مشق کی جبکہ پولیس نے سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا۔

اس موقع پر طلبہ اور اساتذہ کو ہنگامی اخراج (ایویکیویشن) کے درست طریقہ کار، فرسٹ ایڈ کی بنیادی تربیت اور خطرے کی صورت میں گھبراہٹ سے بچنے کے اصولوں سے آگاہ کیا گیا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان کیخلاف افغان سرزمین کا استعمال ناقابل قبول ،فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر

ایکسرسائز کے اختتام پر افسران نے ادارے کے انتظامیہ اور شریک اداروں کی کاوشوں کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کی تربیتی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی تاکہ عوام کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

یہ موک ایکسرسائز نہ صرف اداروں کے مابین باہمی رابطے اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کا سبب بنی بلکہ طلبہ میں اعتماد اور شعور کی فضا کو بھی فروغ دیا، جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں قیمتی جانوں کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

Scroll to Top