اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)چند دن قبل فاطمہ نور نامی ایک خاتون نے کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک ، انسپکٹر جنرل پولیس آزادکشمیر کو شکایت کی کہ 7 ماہ قبل اس کا شوہر اس کے دو سالہ بیٹے کو چھین کر اپنے والدین کےہمراہ بیرون ملک اٹلی منتقل ہوگیا۔۔
مذکورہ شوہر نے اپنے بچے کی ولدیت کے خانہ میں دادا کا نام، والدہ کے خانہ میں دادی جبکہ اپنے آپ کو اپنے بیٹے کا بھائی رجسٹر کروا لیا۔
اس فراڈ کا علم ہونے پرخاتون نے کینسولیٹ آف پاکستان (اٹلی) سے رابطہ کیا تو کینسولیٹ کی جانب سے معاملہ کا نوٹس لے لیا ۔
پاکستانی حکام کے نوٹس لینے پر مزکورہ شخص بیٹے کو لے کرواپس میرپور آ گیا اور بیٹےسمیت روپوش ہو گیا

خاتون نے آئی جی آزادکشمیر سے اپیل کی تھی کہ اس کے بیٹے کو باپ کے جبری قبضہ سےبازیاب کرتے ہوئے حوالہ کیا جائے۔
انسپکٹر جنرل پولیس نے خاتون کی شکایت پر نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی میرپور کو متعلقہ قانون کی منشاء کے مطابق کارروائی کے احکامات جاری کئےتھے ۔
والدہ کی جانب سے متعلقہ کورٹ میں دائر رٹ پٹیشن پر کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں بھی پولیس نے بچے کو بازیاب کروانے کیلئے حکمت عملی اپنائی اور بچے کو بازیاب کروالیا۔
میرپور پولیس نےبچے کو والد کے جبری قبضہ سے بازیاب کرکے والدہ کے حوالے کردیا۔بیٹا ملنے پر خاتون نے آئی جی آزادکشمیر لیاقت علی ملک اور ایس ایس پی میرپورسے اظہار تشکر کیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستانی فورسز کی بڑی کارروائی ،اہم افغان کمانڈر نصرت اللہ ہلاک
ایس ایس پی میرپور خرم اقبال نے ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے ایک ماں کو اس کے بیٹے سے ملا دیا، اٹھ ماں کی جدائی کے بعد ایس ایس پی آفس میں بچے کو ماں کے حوالے کیا گیا
بچے کی حوالگی کے وقت میرپور میں دل چھو جانے والا منظر دیکھنے کو ملا۔۔
انسپکٹر جنرل پولیس نےایک خاتون کی شکایت پر ایس ایس پی میرپور کو متعلقہ قانون کی منشاء کے مطابق کارروائی کے احکامات جاری کئے ۔
چنانچہ والدہ کی جانب سے متعلقہ کورٹ میں دائر رٹ پٹیشن پر کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں پولیس نے بچے کو والد کے جبری قبضہ سے بازیاب کرکےآج والدہ کے حوالے کردیا۔بیٹا ملنے پر خاتون نے آئی جی آزادکشمیر ، ایس ایس پی میرپور کا شکریہ ادا کیا۔




