آپریشن غضب للحق: بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں افغان طالبان کے بڑے حملے پسپا، 67خوارج ہلاک

اسلام آباد: بلوچستان میں افغان طالبان نے شمالی بلوچستان کے اضلاع قلعہ سیف اللہ، نوشکی اور چمن میں 16 مقامات پر زمینی حملے کیے جبکہ 25 مقامات پر پاک افواج کے خلاف فائر ریڈ کی کارروائیاں کیں۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے آپریشن غضب للحق کے حوالے سے بتایا ہے کہ طالبان کے تمام مقامات پر حملوں کو مؤثر طور پر پسپا کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں افغان طالبان کے 27 کارندے ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

مادرِ وطن کا دفاع کرتے ہوئے ایف سی بلوچستان نارتھ کا ایک جوان شہید جبکہ پانچ جوان زخمی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: آپریشن غضب للحق: پاک فوج کی کامیاب فضائی کارروائی، ننگرہار میں دشمن کی خوگانی بیس تباہ

خیبر پختونخوا میں ایک مقام پر زمینی حملے کی کوشش کی گئی جبکہ 12 مقامات پر فائر ریڈ کیا گیا، جنہیں بغیر کسی جانی نقصان کے ناکام بنا دیا گیا، خیبر پختونخوا میں رات بھر جاری کارروائیوں کے دوران افغان طالبان کے 40 کارندے ہلاک ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ فالو اپ آپریشنز تاحال جاری ہیں۔

ادھر سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ افغان طالبان کی جارحیت کے جواب میں پاک افواج کے مؤثر اور تباہ کن جوابی حملے جاری ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فضائیہ کی کارروائی میں جلال آباد میں ایمونیشن ڈپو اور ڈرونز اسٹوریج تباہ کردیا گیا، افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کو بھاری نقصان کا سامنا ہے، سیکیورٹی فورسز افغان طالبان رجیم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے پر عزم ہے۔

مزید پڑھیں: آپریشن غضب للحق ،طالبان کو بھاری نقصان، 415 خوارج ہلاک،580 زخمی

پاک افواج نے افغانستان کے صوبے ننگرہار میں کامیاب فضائی کارروائی کرتے ہوئے خوگانی بیس تباہ کردی ہے۔

واضح رہے کہ آپریشن غضب للحق کے دوران اب تک 435 خوارج ہلاک اور 630 زخمی ہوئے، طالبان رجیم کی 188 چیک پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں جبکہ 31 پوسٹوں پر قبضہ کر لیا گیا۔ کارروائی کے دوران دشمن کے 188 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں بھی تباہ کی گئیں جبکہ افغانستان کے 51 مختلف مقامات پر مؤثر فضائی حملے کیے گئے۔

Scroll to Top