آزاد کشمیر محکمہ برقیات کے ورک چارج ملازمین کا 3 مارچ کو اہل خانہ سمیت دھرنے کا اعلان

آزاد کشمیر محکمہ برقیات کے ورک چارج ملازمین نے 3 مارچ کو اپنے اہل خانہ سمیت دھرنا دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ مرکزی ایوان صحافت میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سید عابد حسین شاہ، ظہیر احمد، وحید مقصود، شاہزمان، فہیم شاہ، محمد حنیف، محمد مدثر، محمد محبوب اور سخی شاہ نے اپنے دکھ بیان کیے۔

محکمہ برقیات کے ورک چارج ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ 10 سے 25 سال سے محکمہ برقیات میں بطور ورک چارج اسسٹنٹ لائن مین کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے شدید سردی، گرمی اور مشکل حالات میں بھی محکمہ کی کارکردگی بہتر بنائی اور بجلی کی ترسیل کے نظام کو چلاتے رہے، مگر اتنی لمبی سروس کے باوجود انہیں آج تک مستقل نہیں کیا گیا۔

ملازمین کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے لیے بنائے گئے رولز پر عمل ہوتا تو آج ہم سب مستقل ہوتے۔ محکمہ برقیات نے 2019 میں 25 خالی اسامیوں کا اشتہار دیا تھا جس پر ورک چارج ملازمین کے حق میں رولز اور محکمانہ کوٹہ کا عدالتی فیصلہ بھی موجود ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بڑے افسران نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو نوازنے کے لیے کوٹہ استعمال کیا جس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ قواعد کے مطابق ورک چارج ملازمین کے لیے 75 فیصد کوٹہ ہے مگر اس پر عمل نہیں ہو رہا۔

یہ بھی پڑھیں: نابینا نجومی بابا وانگا کی آنے والی صدیوں کے بارے میں ہولناک پیشگوئیاں سامنے آگئیں

ملازمین نے بتایا کہ گزشتہ 10 ماہ سے ان کی تنخواہیں بند ہیں جس کی وجہ سے ان کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آ چکی ہے اور بچوں کی تعلیم اور دوسری ضرورتیں پوری نہیں ہو رہیں۔ اب ان کی عمریں بھی زیادہ ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے نئے کام ملنا مشکل ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 75 فیصد کوٹہ کے تحت انہیں فوری مستقل کیا جائے اور بند تنخواہیں دی جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات نہ مانے گئے تو 3 مارچ کو احتجاجی کیمپ لگے گا جس کی ذمہ داری حکام پر ہوگی۔ ملازمین نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور اور چیف سیکرٹری سے اپیل کی کہ اس معاملے کا نوٹس لے کر متاثرہ خاندانوں کو ریلیف دیا جائے۔

مزید پڑھیں: جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا الیکشن رکوانے کا مطالبہ اور آزاد کشمیر کا قانون: کیا احتجاج سے الیکشن رک سکتے ہیں؟

Scroll to Top