سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے خلاف مبینہ قتل کی ناکام سازش میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کا کردار ہے۔ انہوں نے یہ بات نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔
گرپتونت پنوں کے مطابق امریکی عدالت میں بھارتی شہری نکھل گپتا کی جانب سے جرم تسلیم کرنے کو وہ بھارتی حکومت کیلئے اہم پیش رفت قرار دیتے ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ ملزم نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ اسے ایک بھارتی خفیہ اہلکار کی جانب سے امریکا میں قتل کی منصوبہ بندی کی ہدایات دی گئیں ۔ پنوں نے الزام لگایا کہ یہ کارروائی اعلیٰ سطح پر منظور کی گئی، تاہم ان دعوؤں پر بھارتی حکومت کی جانب سے اس رپورٹ میں کوئی ردعمل شامل نہیں ۔
انہوں نے مزید کہا کہ زندگی اور موت کا اختیار انسان کے ہاتھ میں نہیں بلکہ خدا کے پاس ہے اور ان کے مطابق کسی بھی فرد کا وقت پہلے سے طے ہوتا ہے ۔
دوسری جانب امریکی محکمہ انصاف نے ایک بیان میں بتایا کہ نیویارک کی وفاقی عدالت میں 54 سالہ بھارتی شہری نکھل گپتا نے قتل برائے اجرت، مجرمانہ سازش اور منی لانڈرنگ کی سازش سے متعلق الزامات قبول کیے ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستانی فوج کیساتھ مل کر بھارت کا مقابلہ کریں گے : گرپتونت سنگھ پنوں کا اعلان
استغاثہ کے مطابق گپتا نے امریکا میں مقیم ایک سکھ رہنما کو نشانہ بنانے کے لیے مبینہ طور پر ایک کرائے کے قاتل کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی ۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کو یقین تھا کہ وہ امریکا سے باہر رہتے ہوئے امریکی سرزمین پر جرم کروا سکتا ہے، تاہم تحقیقات کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق گپتا کو جون 2023 میں جمہوریہ چیک سے گرفتار کر کے امریکا منتقل کیا گیا ۔
استغاثہ نے یہ بھی کہا کہ کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے بعد ایک اور مبینہ منصوبہ زیر غور تھا۔ امریکی حکام کے مطابق تحقیقات میں ایف بی آئی، ڈی ای اے اور بین الاقوامی شراکت دار اداروں نے تعاون کیا ۔ مقدمے میں نامزد ایک یا زائد دیگر مشتبہ افراد تاحال گرفتار نہیں ہو سکے ۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر الزامات ثابت ہوتے ہیں تو قتل برائے اجرت اور سازش کے جرم پر زیادہ سے زیادہ 10،10 سال قید جبکہ منی لانڈرنگ کی سازش پر 20 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے ۔ حتمی سزا کا فیصلہ عدالت کرے گی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:نریندرمودی پنجاب سے پاکستان پر حملہ کرکے دکھائیں، ہم انڈیاکے 9ٹکڑے کرینگے، گرپتونت سنگھ
امریکی اٹارنی جنرل نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا میں قانون کی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے ایسے مقدمات کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔




