آسٹریلیا نے ہنرمند غیر ملکی کارکنوں کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کرتے ہوئے “ایمپلائر نومینیشن اسکیم ویزا” متعارف کروا دیا ہے، جسے سب کلاس 186 کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس ویزا کے تحت ایسے غیر ملکی افراد کو آسٹریلیا میں مستقل رہائش اور ملازمت کی اجازت دی جائے گی جو کسی منظور شدہ آسٹریلوی آجر کی جانب سے نامزد ہوں۔
رپورٹس کے مطابق سب کلاس 186 کے تحت درخواستوں کا عمل جاری ہے اور دنیا بھر کے ہنرمند افراد اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
امیگریشن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ویزا آسٹریلیا کی طویل المدتی امیگریشن پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد مختلف شعبوں میں ہنرمند افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اسکیم کے ذریعے منتخب امیدوار نہ صرف آسٹریلیا میں قانونی طور پر کام کر سکتے ہیں بلکہ انہیں مستقل رہائش کا درجہ بھی حاصل ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ آسٹریلیا کی تعلیمی، صحت اور سماجی سہولیات سے بھی بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چین کا برطانوی شہریوں کیلئے ویزا فری سروس کا اعلان
مزید یہ کہ ویزا ہولڈرز اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لے جا سکتے ہیں، جو اس اسکیم کو مزید پرکشش بناتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ویزا کے لیے امیدوار کو متعلقہ شعبے میں تسلیم شدہ مہارت، مناسب پیشہ ورانہ تجربہ اور انگریزی زبان پر عبور ثابت کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ صحت اور کردار سے متعلق تمام شرائط پوری کرنا بھی لازمی ہے۔ سب سے اہم شرط یہ ہے کہ امیدوار کی نامزدگی کسی منظور شدہ آسٹریلوی آجر کی جانب سے کی گئی ہو، جو اس کی مہارت کی ضرورت کو تسلیم کرتا ہو۔
امیگریشن حکام کے مطابق یہ ویزا خاص طور پر ان شعبوں کے لیے متعارف کرایا گیا ہے جہاں آسٹریلیا کو شدید افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے، جن میں صحت، انجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تعمیرات، تعلیم اور دیگر تکنیکی شعبے شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب وخلیجی ممالک جانیوالے پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری
حکام نے مزید کہا کہ یہ ویزا پاکستانی ہنرمندوں، پروفیشنلز اور تجربہ کار کارکنوں کے لیے ایک سنہری موقع ثابت ہو سکتا ہے، جو آسٹریلیا میں مستقل بنیادوں پر کام اور رہائش کے خواہشمند ہیں۔ دلچسپی رکھنے والے افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ درخواست دینے سے قبل تمام شرائط کا بغور جائزہ لیں اور مزید تفصیلات کے لیے آسٹریلین ڈیپارٹمنٹ آف ہوم افیئرز کی سرکاری ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔




