مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)ممبر الیکشن کمیشن سید نظیر گیلانی کے خلاف رٹ دائر۔ رٹ سردار عثمان قاسم ایڈووکیٹ نے عدالت العالیہ میں دائر کی جس کی جس کی سماعت جسٹس خالد رشید نے کی۔
پیٹیشنر نے موقف اختیار کیا ہے کہ ممبر الیکشن کمیشن کبھی سیکرٹری ٹو گورنمنٹ نہیں رہے ، صرف ٹائم سکیل پروموشن حاصل کرتے رہے اس لئے وہ اس عہدہ کیلئے اہل نہیں ہیں۔
عدالت نے ممبر الیکشن کمیشن کی تقرری کے کیس کی سماعت 10 فروری کی تاریخ بحث کیلئے مقرر کر لی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سونے کی قیمت آسمان پر! فی تولہ ایک بار پھر 5 لاکھ کراس کر گیا
یاد رہے کہ ممبر الیکشن کمیشن سید نظیر الحسن گیلانی کی تقرری کو ہائی کورٹ آف آذاد کشمیر میں چیلنج کر دیا گیا۔
عثمان قاسم ایڈووکیٹ نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ ممبر الیکشن کمیشن گریڈ اکیس میں کنفرم نہیں تھے اس عہدے کیلئے گریڈ اکیس کا ہونا ضروری ہے۔عدالت العالیہ نے رٹ منظور کرتے ہوئے دس فروری کی تاریخ رکھ دی ہے۔
یاد رہے کہ ممبرآزادجموں وکشمیر الیکشن کمیشن سید نظیر الحسن گیلانی نے 13 جنوری 2025 کو اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈعبدالرشید سلہریانے ان سے حلف لیا تھا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:جاپان آنے والی آسٹریلوی سیاح چیئر لفٹ میں پھنس کر جان کی بازی ہار گئی
حلف برداری کی تقریب چیف الیکشن کمشنر کے آفس میں منعقد ہوئی جس میں سابق چیف جسٹس ہائیکورٹ سید منظورالحسن گیلانی، سیکرٹری سروسزاینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ظفرمحمودخان، سابق سیکرٹری سید ظہور الحسن گیلانی، سیکرٹری قانون چوہدری وحید الحسن،ایڈووکیٹ جنرل شیخ مسعوداقبال ، ناظم تعلقات عامہ راجہ امجد حسین منہاس، محکمہ قانون کے ڈرافٹسمین راجہ زاہد محمود، سیکرٹری الیکشن کمیشن راجہ محمد شکیل خان ، الیکشن کمشنر بلدیات راجہ راشد محمود ودیگر نے شرکت کی ۔ محکمہ قانون و انصاف کے ڈرافٹسمین راجہ زاہد محمود نے سید نظیرالحسن گیلانی کی بطور ممبر الیکشن کمیشن آزادجموں وکشمیر تقرری کا نوٹیفکیشن پڑھ کر سنایا۔




