بھارت میں اس وقت ایک نیا سیاسی تنازع اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی فنانسر جیفری ایپسٹین سے متعلق دستاویزات سامنے آ ئیں جنہیں ’ایپسٹین فائلز‘ کہا جا رہا ہےجس میں نریندر مودی کا ذکر بھی سامنے آیا۔ ان دستاویزات کے منظرعام پر آنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے نریندر مودی کو عہدے سے مستعفی ہونے کا شدیدمطالبہ کر دیا ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کے مطابق 20 مئی 2019 کی ایک دستاویز میں مبینہ طور پر جیفری ایپسٹین نے سابق وائٹ ہاؤس اسٹریٹجسٹ اور امریکی میڈیا ایگزیکٹو اسٹیو بینن کو آگاہ کیا کہ’مودی جمعرات کو کسی کو مجھ سے ملنے کے لیے بھیج رہے ہیں‘۔
اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ تاریخ 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد وزیرِاعظم نریندر مودی کے دوسری بار حلف اٹھانے سے محض 10 دن قبل کی بتائی جا رہی ہے جس کے باعث اس معاملے کی حساسیت مزید بڑھ گئی ہے۔
While we are on this, there is disturbing disclosure:
The #EpsteinFiles also reveal that on 20th May 2019 Jeffery Epstein informed Steve Bannon – the American media executive, political strategist, pundit – that “Modi sending someone to see me on Thurs(day).”Again, this was… pic.twitter.com/O5CA8iU6Qo
— Pawan Khera 🇮🇳 (@Pawankhera) February 1, 2026
اپوزیشن نے وزیرِاعظم سے وضاحت طلب کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ ان کا جیفری ایپسٹین سے کیا تعلق تھا، جو 2008 میں فلوریڈا کی ایک عدالت سے ایک کمسن لڑکی سے جسم فروشی کروانے کے جرم میں سزا یافتہ قرار دیا جا چکا تھا۔ اپوزیشن نے یہ سوال بھی کیا ہے کہ مبینہ طور پر کس شخص کو ایپسٹین سے ملاقات کے لیے بھیجا گیا اور حساس انتخابی دور میں اس ملاقات کا مقصد کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی وزیرِاعظم مودی کانام ایپسٹین فائلز میں شامل، اپوزیشن کی شدید تنقید
یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی زیرِبحث ہے جہاں مخالفین کا کہنا ہے کہ زیرِبحث دستاویزات محض قیاس آرائیاں یا افواہیں نہیں بلکہ امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے ایک وفاقی تحقیقات کے تحت مرتب کردہ ریکارڈز ہیں۔ ان کے مطابق ان دستاویزات کو سازشی نظریات قرار دینا حقائق سے صرفِ نظر کے مترادف ہے۔
دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی نے مبینہ طور پر ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے نظرانداز کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکمران جماعت کا مؤقف کمزور دکھائی دیتا ہے اور وہ وزیرِاعظم سے واضح اور دوٹوک جواب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: سابق ’’را‘‘ چیف نے کشمیر پر مودی کی کشمیرپالیسی وبے حسی بے نقاب کردی
تاحال وزیرِاعظم کے دفتر کی جانب سے ان مخصوص دعوؤں یا اٹھائے گئے سوالات پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، جس کے بعد یہ معاملہ بدستور سیاسی بحث کو ہوا دے رہا ہے اور نریندر مودی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے، جبکہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے شفافیت کے مطالبات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔




