امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین اور کینیڈا کے درمیان ممکنہ تجارتی معاہدے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر کینیڈا نے چین کے ساتھ تجارتی ڈیل کی تو اس پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا ۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا کسی صورت کینیڈا کو چینی مصنوعات کے لیے راستہ یا ’’ڈراپ پورٹ‘‘ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کینیڈا کے ذریعے چینی اشیاء امریکی مارکیٹ تک پہنچانے کی کوشش کی گئی تو واشنگٹن اس کے خلاف فوری اور سخت اقدامات کرے گا ۔
ٹرمپ نے کہا کہ تجارتی قوانین کی خلاف ورزی اور امریکا کے معاشی مفادات کو نظرانداز کرنا ناقابلِ قبول ہے ۔ ان کے مطابق چین کے ساتھ کسی بھی ایسے معاہدے کے نتائج کینیڈا کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اور امریکا اس حوالے سے کوئی نرمی نہیں برتے گا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:دستخطی تقریب، صدرٹرمپ کا فیلڈ مارشل کی طرف اشارہ، مسکراہٹ کیساتھ خیر مقدم
امریکی صدر کی اس دھمکی کے بعد امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تعلقات پر بین الاقوامی سطح پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سخت بیانات نہ صرف شمالی امریکا میں تجارتی توازن کو متاثر کر سکتے ہیں بلکہ عالمی معیشت پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ۔
ڈونلڈٹرمپ کے بیان کے بعد چین اور کینیڈا کے اقتصادی اور تجارتی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرامریکا واقعی سخت ٹیرف عائد کرتا ہے تو اس سے تینوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سپلائی چین پر بھی پڑ سکتے ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کو دھمکیوں کا جواب، یورپی یونین نے امریکا کیساتھ تجارتی معاہدہ معطل کردیا
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں کینیڈا اور چین کا ردِعمل اس معاملے کی سمت کا تعین کرے گا، تاہم فی الحال صدر ٹرمپ کے اس بیان نے عالمی تجارت کے مستقبل سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے ۔




