دوسرے پاسپورٹ کی عالمی دوڑ: لوگ دہری شہریت کیوں چاہتے ہیں؟

ایئرپورٹ پر پاسپورٹ کنٹرول کی طویل قطاروں سے نجات پانا ہو یا کسی نئے ملک میں آزادانہ کام کرنے کا خواب، دنیا بھر میں دوسری شہریت حاصل کرنے کا رجحان اب ایک عالمی جنون کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

امریکی میڈیا ادارے سی این این کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، دوسرے پاسپورٹ کے حصول کی اس دوڑ میں صرف عام مسافر ہی شامل نہیں بلکہ ہالی وڈ کے معروف اداکار جارج کلونی، ان کی اہلیہ اور بچے بھی گذشتہ برس کے اواخر میں اس فہرست کا حصہ بن چکے ہیں۔ دہری شہریت کا تصور، جو طویل عرصے سے غیر ملکیوں اور سیاحوں میں مقبول رہا ہے، اب دنیا میں آزادانہ نقل و حرکت پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی وجہ سے مال دار افراد کے لیے بھی ایک ضرورت بن گیا ہے تاکہ وہ ایک سے زیادہ ملکوں میں رہنے اور کام کرنے کی سہولت حاصل کر سکیں۔

دہری شہریت حاصل کرنا اب محض ایک قانونی ضرورت نہیں رہی بلکہ یہ ایک ایسی “کلید” بن چکا ہے جو عالمی سفر اور نئے مواقع کے بند دروازے کھولنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دوسرے پاسپورٹ کے حصول کی ایک بڑی وجہ سرحدوں پر ملنے والی وہ آسانی ہے جو مسافر کو مقامی شہریوں کی صف میں کھڑا کر دیتی ہے اور اسے طویل قطاروں اور ویزہ کی سخت پابندیوں سے نجات دلاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ عمل معاشی تحفظ کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے کیونکہ یہ انسان کو اپنی پسندیدہ سرزمین پر بلا روک ٹوک بسنے، وہاں کاروبار کرنے اور روزگار کے وسیع تر مواقع تلاش کرنے کی مکمل آزادی فراہم کرتا ہے۔ بہت سے افراد کے لیے دوسرا پاسپورٹ اپنی خاندانی جڑوں سے دوبارہ جڑنے کا راستہ ہے، جبکہ موجودہ سیاسی و معاشی عدم استحکام کے دور میں یہ ایک مضبوط ‘پلان بی’ کے طور پر ابھرا ہے جو ناگہانی حالات میں ایک محفوظ متبادل زندگی فراہم کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کینیڈا کا 13 ممالک کے لیے ویزا فری انٹری کا اعلان، بڑی سہولت متعارف

موجودہ اعداد و شمار اس رجحان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت کی تصدیق کرتے ہیں۔ اگرچہ بہت سے ممالک شہریوں کے لیے اپنی متعدد شہریتوں کا اعلان کرنا لازم قرار نہیں دیتے، لیکن برطانیہ کی 2021 کی مردم شماری ظاہر کرتی ہے کہ انگلینڈ اور ویلز کے دو فیصد سے زائد باشندوں کے پاس متعدد پاسپورٹ تھے، جو 2011 کے مقابلے میں دوگنا تعداد ہے۔ اسی طرح امریکہ میں ایک حالیہ سروے کے مطابق 6 فیصد امریکی خود کو دہری شہریت کا حامل بتاتے ہیں۔ نومبر کے ایک گیلپ سروے کے مطابق پانچ میں سے ایک امریکی اب کسی دوسرے ملک میں رہائش اختیار کرنے کی خواہش رکھتا ہے، جس میں نوجوان خواتین کی تعداد میں 2014 کے مقابلے میں 400 فیصد کا حیران کن اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ لوگ اب اپنے مستقبل کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیے بیرون ملک نئی شروعات کو ترجیح دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:انڈونیشیا کا گلوبل سٹیزن شپ پروگرام، شہریت کے لیے درخواستیں طلب

دوسری جانب، بڑھتی ہوئی عالمی طلب کے پیش نظر کئی ممالک نے اپنے پروگراموں میں تبدیلیاں بھی شروع کر دی ہیں۔ ارجنٹائن رواں سال پانچ لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کے عوض شہریت دینے کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ ایل سلواڈور نے بٹ کوائن اور کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کے ذریعے شہریت حاصل کرنے کا ایک نیا راستہ کھول دیا ہے۔ تاہم، اکیسویں صدی کی بدلتی سیاست اور قوم پرستی کی لہر نے اس عمل کو مشکل بھی بنا دیا ہے۔ سنہ 2025 میں کئی یورپی ممالک نے اپنے ’گولڈن پاسپورٹ‘ پروگراموں کی شرائط سخت کر دی ہیں، اور امریکہ میں بھی ایسے قوانین پر غور کیا جا رہا ہے جو امریکیوں پر کسی دوسرے ملک کی شہریت رکھنے پر پابندی لگا سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے دنیا غیر یقینی ہوتی جا رہی ہے، یہ پروگرام مزید مہنگے اور قواعد و ضوابط مزید سخت ہو سکتے ہیں، اس لیے جو موقع ملے اسے حاصل کر لینا ہی دانشمندی ہے۔

Scroll to Top