دبئی: بھارتی بزنس مین کا روپ دھارے نوسرباز بلویندر سنگھ سہنی المعروف ابو صباح کو دبئی میں 150 ملین درہم (تقریباً 40.8 ملین ڈالر) کی بٹ کوائن منی لانڈرنگ اسکیم میں ملوث ہونے پر 5 سال قید کی سزا کو برقرار رکھا گیا ہے۔
دبئی کورٹ نے سزا کے بعد اسے متحدہ عرب امارات سے ملک بدر کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
دبئی کی اعلیٰ ترین عدالت کورٹ آف کیسشن نے بدھ کے روز بلویندر سنگھ سہنی کی اپیل مسترد کر دی، جس کے بعد سزا حتمی ہو گئی جسے چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔
اس سے قبل مئی میں دبئی کی ایک عدالت نے بلویندر سنگھ کو متعدد مالی جرائم میں مجرم قرار دیا تھا۔
اگست میں دبئی کی اپیل کورٹ نے کیس میں نامزد تمام 30 ملزمان کو حکم دیا تھا کہ وہ منی لانڈرنگ کے ذریعے منتقل کی گئی 150 ملین درہم کی رقم واپس کریں تاہم عدالت نے یہ جرمانہ اس بنیاد پر معاف کر دیا کہ یہ رقم پہلے ہی تفتیش کے دوران ضبط شدہ اثاثوں سے وصول کر لی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں ڈیجیٹل فراڈ میں اضافہ، این سی سی آئی اےکا انتباہ جاری
عدالتی دستاویزات کے مطابق، دسمبر 2024 میں سہنی کے کاروباری معاملات کی تحقیقات شروع ہوئیں، جن میں انکشاف ہوا کہ اکتوبر 2018 سے جنوری 2019 کے دوران بٹ کوائن کے ذریعے غیر قانونی رقوم منتقل کی گئیں۔
تحقیقات کا آغاز ابوظبی کی اسٹیٹ سکیورٹی ایجنسی کو ملنے والی خفیہ اطلاع کے بعد ہوا۔ تفتیش میں پتا چلا کہ اس نیٹ ورک کے 30 افراد برطانیہ میں منظم جرائم پیشہ گروہوں کے ساتھ مل کر منی لانڈرنگ میں ملوث تھے۔
ریکارڈ کے مطابق، برطانیہ کے منشیات فروشوں اور ٹیکس چوری سے حاصل کی گئی تقریباً 180 ملین درہم کی رقم بٹ کوائن کے ذریعے بھارتی نوسرباز سہنی کے 5 ڈیجیٹل والٹس میں منتقل کی گئی۔ بعد ازاں یہ رقم نقد بنا کر دبئی کے ایک لگژری ہوٹل کے اپارٹمنٹ میں پہنچائی جاتی رہی۔




