نئی دہلی: راجستھان کے شہر اجمیر میں قائم مشہور ’’سیون ونڈر پارک‘‘ میں ’تاج محل‘ کی نقل کو سپریم کورٹ کے حکم پر منہدم کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ پارک انا ساگر جھیل کے کنارے 12 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کیا گیا تھا، جہاں دنیا کے سات عجائبات کی نقول سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھیں۔
تاہم عدالت نے چھ ماہ قبل قومی ماحولیاتی ٹریبونل کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا تھا کہ یہ پارک جھیل کی زمین پر ماحولیاتی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کیا گیا ہے، لہٰذا اسے غیر قانونی قرار دے کر ہٹانے کا حکم دیا گیا۔
انتظامیہ نے ہفتے کے روز سخت سیکیورٹی کے درمیان انہدامی کارروائی کا آغاز کیا۔ بڑی بڑی کرینوں کے ذریعے ایفل ٹاور کی نقل کو ہٹا دیا گیا، جبکہ تاج محل کی نقل پر مزدور ہتھوڑے اور الیکٹرک کٹر چلا رہے ہیں۔ اسی طرح اٹلی کے پیسا کے جھکے ہوئے مینار کو احتیاط سے حصوں میں کاٹ کر الگ کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیرون ملک مقیم پاکستانی گھر بیٹھے گاڑی اپنے نام ٹرانسفر کرواسکتے ہیں
یہ پارک اجمیر کے نمایاں تفریحی مراکز میں شمار ہوتا تھا، جہاں روزانہ درجنوں سیاح اور مقامی خاندان سیر و تفریح کے لیے آتے تھے۔ تاہم اب پارک کی بندش اور انہدام کے باعث مقامی تاجروں اور رہائشیوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے کاروبار اور روزگار دونوں متاثر ہوں گے۔
دوسری جانب انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عدالتی احکامات پر عمل درآمد اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے ضروری تھا۔ افسران کے مطابق اس کارروائی سے انا ساگر جھیل کی قدرتی حالت بحال کرنے میں مدد ملے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سولر صارفین پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاریاں،آئیسکو نے بڑاحکم جاری کردیا گیا
اجمیر کے سیون ونڈر پارک میں دنیا کے سات مشہور عجائبات کی نقول تیار کی گئی تھیں جن میں مصر کے اہرام، برازیل کا کرائسٹ دی ری ڈیمَر مجسمہ، روم کا کولوسیم، امریکہ کا اسٹیچو آف لبرٹی، آگرہ کا تاج محل، اور اٹلی کا پیسا ٹاور شامل تھے۔ ان میں سے بیشتر نقول پہلے ہی ہٹا دی گئی ہیں جبکہ اب تاج محل اور پیسا ٹاور کے انہدام کا عمل جاری ہے۔




