اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں معاشی اصلاحات کے تسلسل، مالی نظم و ضبط اور پالیسیوں کے تسلسل کو سراہتے ہوئے ملک کی اقتصادی صورتحال میں بتدریج استحکام کا اعتراف کیا ہے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے مڈل ایسٹ اینڈ سینٹرل ایشیا ریجینل اکنامک آؤٹ لک رپورٹ جاری کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت رواں مالی سال 2024-25 میں 3.6 فیصد کی شرح سے ترقی کرنے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے کیے گئے مالیاتی اقدامات، سبسڈی کے خاتمے، محصولات میں بہتری اور کرنٹ اکاؤنٹ کے استحکام نے مجموعی مالی صورتحال کو مضبوط کیا ہے۔
ادارے نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ پاکستان میں ترسیلاتِ زر میں اضافہ ہوا ہے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوا ہے، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملا ہے۔ تاہم رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگلے مالی سال 2025-26 میں مہنگائی کے دوبارہ بڑھنے کا امکان ہے، جو عوامی دباؤ میں اضافہ کرسکتا ہے۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ بجلی پر سبسڈی کے خاتمے اور ٹیرف کے معمول پر آنے سے قلیل مدت میں مہنگائی کے اثرات نمایاں ہوسکتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی، جغرافیائی تنازعات اور سیاسی غیر یقینی صورتحال معیشت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
علاوہ ازیں، رپورٹ میں 2025 کی تیسری سہ ماہی میں ممکنہ سیلاب کے خطرات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے، جس کے معیشت پر منفی اثرات کا خدشہ موجود ہے۔ تاہم، رپورٹ کے مطابق ان اثرات کی شدت اور دورانیے کے بارے میں ابھی کوئی حتمی پیش گوئی ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات میں بھوتوں کا محل فروخت کیلئے پیش کردیا گیا
آئی ایم ایف کی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پاکستان کے لیے طویل مدتی معاشی استحکام اسی وقت ممکن ہے جب اصلاحات کا تسلسل برقرار رکھا جائے، مالی نظم مضبوط کیا جائے اور پالیسیوں کا تسلسل یقینی بنایا جائے۔ رپورٹ کے مطابق اگر موجودہ پالیسی سمت برقرار رہی تو پاکستان کی معیشت مستقبل میں مزید مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہوسکتی ہے۔




