افغانستان سے جنگ بندی دراندازی روکنے سے مشروط ہے، وزیردفاع خواجہ آصف

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان حالیہ جنگ بندی معاہدہ اس شرط سے مشروط ہے کہ افغانستان میں حکمران طالبان پاکستان پر حملہ آور شدت پسندوں کو قابو میں رکھیں گے۔

پیر کو برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز سے اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس میں اپنے دفتر میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ افغانستان سے ہونے والی کوئی بھی کارروائی اس معاہدے کی خلاف ورزی ہو گی،تمام تر صورتحال اس ایک شق پر منحصر ہے۔

ادھر نجی ٹی وی گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ قطر میں مذاکرات تحریک طالبان افغانستان سے ہوئے، عمران خان تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات کی بات کرتے ہیں، جو پاکستان کے بچوں کے قاتل ہیں ان سے بات چیت نہ کی ہے نہ آئندہ کریں گے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ قطر میں پاک افغان سمجھوتے پر عملدرآمد کیسے ہو گا اس پر استنبول مذاکرات میں بات ہوگی،ان کا کہنا تھا کہ پاک افغان مذاکرات کے ماحول میں تلخی نہیں تھی، قطر اور ترکیے کے حکام نے مذاکراتی عمل کو قابل اعتبار بنایا۔

یہ بھی پڑھیں: افغان مہاجرین کی واپسی سے متعلق خواجہ آصف کا اہم بیان آگیا

ان کا افغان طالبان پراچھا خاصا اثر ورسوخ ہے، اگرمعاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو برادر ممالک کو کہا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مکینزم کے تحت معاہدے پرعمل درآمد ہوگا، ہوسکتا ہے ترکیے میں مذاکرات 25 سے 27 اکتوبرتک جاری رہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ایک صفحے پر 4 پیراگراف پر مشتمل مختصر معاہدہ ہے، کل افغان طالبان یہ نہ کہیں کہ فلاں شہر والے نہیں مان رہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان اور افغانستان کے درمیان قطر و ترکیے کی ثالثی میں جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا۔ دونوں ممالک نے آئندہ چند دنوں میں ترکیے میں مزید مذاکرات کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان امن اور استحکام کے لیے مستقل مکینزم بنانے پر بھی اتفاق کیا۔

Scroll to Top