اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر شہروں میں بور واٹر سسٹم کے استعمال میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تاہم ماہرین صحت کے مطابق طویل عرصے تک بغیر ٹیسٹ کیے زیرزمین پانی کا استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بورنگ کا پانی کہیں کم اور کہیں زیادہ کھارا ہوتا ہے جو نہ صرف جلد بلکہ بالوں کے مسائل کا بھی سبب بن سکتا ہے۔
ایک نجی چینل کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ بور کے پانی میں کیلشیئم کاربونیٹ اور میگنیشیئم سلفیٹ جیسے اجزا زیادہ پائے جاتے ہیں، اسی لیے اسے “ہارڈ واٹر” کہا جاتا ہے۔ انٹرنیشنل جرنل آف کاسمیٹک سائنس میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق نل یا بور کے پانی میں موجود نمکیات بالوں کی جڑوں کو کمزور کر دیتے ہیں، جس سے بال بے جان اور دو منہ کے ہونے لگتے ہیں۔
ہیئر اسپیشلسٹ ڈاکٹر افشین اسلم نے بتایا کہ جب لوگ ہارڈ واٹر سے نہاتے ہیں تو یہ جلد پر ایک تہہ بنا دیتا ہے جو بالوں میں نمی کو روک دیتی ہے۔ ان کے مطابق اس کے باعث بال خشک، کمزور اور ٹوٹنے لگتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ تمام ہیئر اسپیشلسٹس اس بات پر متفق نہیں کہ بور کا پانی براہ راست بالوں کے جھڑنے کا باعث ہے، تاہم نئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ اس پانی میں موجود نمکیات جلد اور بالوں کے مسائل پیدا کرتے ہیں۔
ڈاکٹر افشین اسلم نے کہا کہ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ گھروں میں واٹر فلٹریشن ڈیوائس لگائی جائے جو پانی سے نمکیات، بیکٹیریا اور کیمیکلز کو صاف کر دے۔ تاہم اگر یہ ممکن نہ ہو تو کلیریفائنگ شیمپو کا استعمال کیا جا سکتا ہے، جسے چند منٹ لگا رہنے کے بعد دھونا چاہیے تاکہ بالوں پر جمی نمکیات کی سطح صاف ہو جائے۔
انہوں نے بتایا کہ سیب کا سرکہ اور گھیکوار بھی مؤثر گھریلو علاج ہیں، جو بالوں سے نمکیات کے اثرات ختم کرتے ہیں اور بالوں کو نرم و چمکدار بناتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بالوں کے گرنے کی وجوہات صرف پانی تک محدود نہیں۔ وٹامن ڈی اور وٹامن بی 7 کی کمی بھی اس کا سبب بن سکتی ہے جبکہ وٹامن اے کا ضرورت سے زیادہ استعمال بالوں کے جھڑنے کے عمل کو تیز کرتا ہے۔ انسانی جسم کو روزانہ 5 ہزار آئی یو وٹامن اے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اگر سپلیمنٹس کے ذریعے یہ مقدار بڑھ جائے تو نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
اسی طرح ذہنی دباؤ، غیر متوازن غذا اور پروٹین کی کمی بھی بالوں کے گرنے میں کردار ادا کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق دہی، انڈہ اور چکن جیسی پروٹین سے بھرپور غذائیں بالوں کے لیے ضروری ہیں۔ بعض اوقات خون پتلا کرنے اور بلڈ پریشر کی مخصوص ادویات بھی بالوں کے جھڑنے کا باعث بنتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: روسی تیل کی خریداری نہ روکی تو بھاری ٹیرف جاری رہیں گے،ٹرمپ کا مودی کو انتباہ
ان کا کہنا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ بالوں کی نمی کم ہو جاتی ہے، اس لیے 50 سال کی عمر کے بعد بالوں کی مناسب دیکھ بھال اور اسٹائلنگ سے پرہیز انتہائی ضروری ہے تاکہ بالوں کا گھنا پن برقرار رہ سکے۔




