ٹیسٹ ٹوئنٹی: کرکٹ کے نئے فارمیٹ کے ذریعے نیا کرکٹنگ ایکو سسٹم بنانے کی کوشش

(کشمیر ڈیجیٹل) کرکٹ کی دنیا میں ایک نیا باب رقم ہونے جا رہا ہے۔ ٹیسٹ، ون ڈے، ٹی ٹوئنٹی، دی ہنڈریڈ اور ٹی ٹین کے بعد اب ’’ٹیسٹ ٹوئنٹی‘‘ کے نام سے ایک نیا کرکٹ فارمیٹ متعارف کرا دیا گیا ہے، جو 16 اکتوبر کو ورچوئلی لانچ کیا گیا۔

یہ نیا فارمیٹ ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا امتزاج ہے۔ اس میں ایک دن میں 80 اوورز کا کھیل ہوگا لیکن یہ چار اننگز پر مشتمل ہوگا۔ ہر ٹیم دو بار بیٹنگ کرے گی، بالکل ٹیسٹ میچ کی طرح، تاہم وقت کم ہونے کے باعث کھیل زیادہ دلچسپ اور تیز رفتار ہوگا۔

پریس ریلیز کے مطابق، اس فارمیٹ میں کھیل کی اصل روح برقرار رکھتے ہوئے اسے جامع، متحرک اور نشریاتی تقاضوں کے مطابق بنایا گیا ہے۔ اس کا نتیجہ کسی جیت، ہار، ٹائی یا ڈرا کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

ٹیسٹ ٹوئنٹی کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں موجود نوجوان ٹیلنٹ کو اجاگر کرنا ہے۔ اس فارمیٹ میں 13 سے 19 سال تک کے کھلاڑی شامل ہوں گے۔ اس منصوبے کے پیچھے موجود تنظیم ’’دی فورتھ فارمیٹ‘‘ کھیل میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے، جیسے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی اسکاؤٹنگ سسٹم اور بیٹ و بال میں موشن سینسرز کی تنصیب تاکہ نوجوان کھلاڑی جدید انداز میں کھیل کو سمجھ سکیں۔

’’دی فورتھ فارمیٹ‘‘ کے سی ای او اور ’’ون ون سکس نیٹ ورک‘‘ کے ایگزیکٹو چیئرمین گورَو بہیروانی نے بتایا کہ اس منصوبے کا مقصد صرف ایک ٹورنامنٹ نہیں بلکہ ایک نیا کرکٹنگ ایکو سسٹم تشکیل دینا ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ دنیا بھر کے کھلاڑیوں کو چاہے وہ کسی بھی ملک، پس منظر یا جنس سے تعلق رکھتے ہوں، یکساں مواقع فراہم کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح امریکہ میں NCAA نے باسکٹ بال کے نظام کو بدل دیا، اسی طرز پر وہ عالمی سطح پر کرکٹ کے لیے ایک مربوط ٹیلنٹ نیٹ ورک بنا رہے ہیں جو آئندہ نسل کے کرکٹرز کی تربیت اور ترقی میں مدد کرے گا۔ ٹیسٹ ٹوئنٹی کے ورچوئل تعارفی پروگرام میں سر کلف لائیڈ، میتھیو ہیڈن، اے بی ڈی ویلیئرز اور ہربھجن سنگھ جیسے نامور کرکٹرز شریک ہوئے اور اس منصوبے کی بھرپور حمایت کی۔

اے بی ڈی ویلیئرز نے کہا کہ انہیں اس فارمیٹ میں سب سے زیادہ یہ بات پسند آئی کہ یہ کھلاڑیوں کو کھیل میں آزادی دیتا ہے۔ ان کے مطابق یہ بے خوف کرکٹ ہے جو کھلاڑیوں کو دو اننگز میں توازن اور بقا سکھاتی ہے۔ میتھیو ہیڈن نے کہا کہ نوجوان مستقبل ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ اس منصوبے سے جڑے۔ ان کے مطابق طویل فارمیٹ کردار، مہارت، ذہنی اور جسمانی مضبوطی کا امتحان ہوتا ہے، اور ٹیسٹ ٹوئنٹی میں 80 اوورز کے ذریعے دونوں فارمیٹس کی بہترین خصوصیات ایک ساتھ دیکھی جا سکتی ہیں۔

ہیڈن نے مزید کہا کہ یہ پلیٹ فارم کرکٹ بورڈز کے ساتھ شراکت کے ذریعے نوجوان ٹیلنٹ کی تلاش اور تربیت میں مدد دے گا۔ انہوں نے بتایا کہ آسٹریلیا میں نیشنل اکیڈمی اب موجود نہیں جو پہلے بہترین کھلاڑی پیدا کرتی تھی، ایسے میں ٹیسٹ ٹوئنٹی جیسے پلیٹ فارمز نوجوانوں کے لیے نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔ گورَو بہیروانی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بی سی سی آئی اور دیگر بورڈز ان کا کام دیکھیں۔ وہ اپنی ٹیکنالوجی ریاستی ایسوسی ایشنز یا برطانیہ کی کاؤنٹیز کو منتقل کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ کرکٹ کو جڑوں کی سطح پر مضبوط بنایا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر کھلاڑی کو دو سے زیادہ مواقع ملنے چاہئیں، اور ٹیسٹ ٹوئنٹی ایسا پلیٹ فارم ہے جو نوجوان کرکٹرز کو ترقی کا موقع دے گا۔ وہ پرامید ہیں کہ آنے والے برسوں میں ریاستی ایسوسی ایشنز اور کرکٹ بورڈز اس پلیٹ فارم کو اپنے پارٹنر کے طور پر دیکھیں گے۔ ٹیسٹ ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے ابتدائی ایڈیشنز جنوری 2026 سے بھارت میں منعقد ہوں گے۔ اس میں چھ ٹیمیں حصہ لیں گی، جن میں تین ٹیمیں بھارت سے جبکہ تین دبئی، لندن اور ایک امریکی شہر کی نمائندگی کریں گی۔

ہر ٹیم کا اسکواڈ 16 کھلاڑیوں پر مشتمل ہوگا جن میں آٹھ بھارتی اور آٹھ بین الاقوامی کھلاڑی ہوں گے۔ کل 96 کھلاڑی نیلامی کے ذریعے منتخب کیے جائیں گے جبکہ 204 کھلاڑی ’’وائلڈ کارڈ پول‘‘ میں شامل ہوں گے جو سیزن کے دوران متبادل کے طور پر دستیاب ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے جنوبی افریقہ وائٹ بال سیریز کے لیے فلیٹ پچز نہ بنانے کا فیصلہ کر لیا

پہلے سیزن کی فاتح ٹیم کو ’’جونیئر ٹیسٹ ٹوئنٹی چیمپئن شپ‘‘ (JTTC) کا تاج دیا جائے گا۔

Scroll to Top