بچے کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار پر اسسٹنٹ کمشنر نے والد کو بھی ویکسین پلادی

اسکردو (کشمیر ڈیجیٹل) ضلع گانچھے میں انسداد پولیو مہم کے دوران ایک انوکھا واقعہ سامنے آیا، جب اسسٹنٹ کمشنر نے اس باپ کو بھی قطرے پلادیے جس نےاپنے5 سالہ بیٹے کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا تھا۔ اس اقدام کا مقصد والد کو پولیو ویکسین کی محفوظ نوعیت کے بارے میں یقین دلانا اور مقامی کمیونٹی میں اعتماد پیدا کرنا تھا۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کے مطابق، حالیہ انسداد پولیو مہم کے دوران ضلع گانچھے میں38 ہزار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔ مقامی لوگوں کا تعاون اس مہم کی کامیابی میں بہت اہم رہا ہے اور والدین نے ویکسینیشن میں بھرپور حصہ لیا۔

پولیو قطرے پلانے سے انکار کرنے والے بچے کے والد نے اس اقدام کو اپنی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اب ویکسین کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور آئندہ اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور دلوائیں گے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ والد کو ویکسین دینے کا مقصد انہیں یہ یقین دلانا تھا کہ پولیو کے قطرے بالکل محفوظ ہیں اور بچوں کے لیے ضروری ہیں۔

علاوہ ازیں، پاکستان دنیا کے تین ایسے ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو وائرس اب بھی گردش میں ہے، باقی دو ممالک افغانستان اور نائیجیریا ہیں۔ تاہم، پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے 1994 میں شروع ہونے والے پروگرام کے بعد کیسز میں زبردست کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ 1990 کی دہائی کے آغاز میں ہر سال تقریباً 20,000 پولیو کے کیسز رپورٹ ہوتے تھے جبکہ 2018 میں صرف آٹھ کیسز سامنے آئے۔

پولیو وائرس پاکستان میں گردش کرتا رہنے کی وجہ سے کسی بھی بچے کو مکمل تحفظ حاصل نہیں ہے۔ اسی لیے یہ تمام پاکستانیوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ پانچ سال سے کم عمر بچوں کو ہر گھر تک جانے والی مہم کے دوران پولیو سے بچاؤ کی ویکسین ضرور پلائیں تاکہ اس مہلک بیماری کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: محکمہ موسمیات نے ’انتہائی سرد موسم‘ پیشگوئیوں کی وضاحت کر دی

اس وقت ضلع گانچھے میں پولیو مہم جاری ہے اور یہ 17 اکتوبر 2025 تک جاری رہے گی۔ مقامی انتظامیہ نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں تاکہ اس موذی مرض کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے۔

Scroll to Top