کراچی: قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان جاوید میانداد نے بھارت کے غیرذمہ دارانہ رویے پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے ایشیا کپ میں جس طرح کا سلوک کیا، اس کے بعد ایشیا کپ کی ٹرافی دینی ہی نہیں چاہیے ۔
شہر قائد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جاوید میانداد نے کہا کہ ایشیا کپ میں پیدا ہونے والی کشیدگی کی اصل وجہ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی ہیں، جنہیں اپنے رویے پر غور کرنے اور کھیل کے تقدس کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ کے معاملات ان لوگوں کے ہاتھ میں ہونے چاہئیں جنہیں کھیل کا شعور اور اس کی نزاکتوں کا ادراک ہو، نہ کہ ایسے افراد کے جو سیاست کو کھیل پر ترجیح دیتے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں منعقدہ ایشیا کپ کے فائنل میں بھارتی ٹیم نے غیرمعمولی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے چیئرمین محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار کر دیا تھا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سلطان آف جوہر جونیئر ہاکی کپ : نیوزی لینڈ نے پاکستان کو 3-2 سے شکست دے دی
بھارتی ٹیم کے اس اقدام کے باعث ایونٹ کی اختتامی تقریب تاخیر کا شکار ہوئی اور نتیجتاً پاکستانی ٹیم ٹرافی وصول کرنے سے محروم رہ گئی ۔
بعد ازاں، 30 ستمبر کو ہونے والے اے سی سی اجلاس میں بھارتی کرکٹ بورڈ نے مسلسل ٹرافی لینے پر اصرار کیا، تاہم محسن نقوی نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ “اگر ٹرافی چاہیے تو سوریا کمار یادیو خود دفتر آ کر مجھ سے لے لیں ۔
اجلاس کے دوران صورتحال کشیدہ ہوگئی تو اے سی سی نے پاکستان، بھارت، سری لنکا اور افغانستان کے بورڈز پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے دی تاکہ معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کیا جا سکے ۔
اجلاس میں بھارتی ٹیم کے ہینڈ شیک سے انکار اور سوریا کمار یادیو کے سیاسی بیانات کی بھی باضابطہ مذمت کی گئی، جبکہ جاوید میانداد نے زور دیا کہ کھیل کو سیاست سے پاک رکھنا سب کے مفاد میں ہے ۔




