ٹرمپ کا چین سے تجارتی تعلقات ختم کرنے پر غور، وجہ سامنے آگئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے ساتھ بعض تجارتی تعلقات ختم کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔ ان میں کوکنگ آئل سمیت دیگر اشیاء کا کاروبار شامل ہے۔

واشنگٹن سے جاری رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ چین نے جان بوجھ کر امریکی سویابین خریدنا بند کردیا ہے، جس سے امریکی کسانوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق، “چین کی جانب سے امریکی سویابین نہ خریدنا ایک معاشی دشمنی کا عمل ہے، اسی کے نتیجے میں ہم چین کے ساتھ کوکنگ آئل اور دیگر تجارتی معاملات ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔”

صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا سائٹ “ٹرتھ سوشل” پر لکھا کہ امریکہ آسانی سے اپنا کوکنگ آئل خود تیار کر سکتا ہے اور اسے چین سے خریدنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ اگرچہ ان کے چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ تعلقات اچھے ہیں، لیکن چین اکثر دوسروں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہمیں چین کے ساتھ محتاط رہنا ہوگا۔ میرا صدر شی کے ساتھ اچھا تعلق ہے، لیکن کبھی کبھی یہ تعلق آزمائش میں پڑ جاتا ہے کیونکہ چین دوسروں کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے، جو ہمارے ساتھ نہیں ہو سکتا۔ تاہم، میرا خیال ہے کہ ہمارا چین کے ساتھ تعلق منصفانہ ہے اور سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔”

چین اس وقت دنیا میں سویابین خریدنے والا سب سے بڑا ملک ہے، تاہم حالیہ مہینوں میں اس نے امریکہ سے سویابین کی خریداری نمایاں طور پر کم کر دی ہے اور زیادہ تر درآمدات برازیل اور ارجنٹینا سے کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جھوٹ اور پراپیگنڈا نے بھارتی فوج کو ’تماشہ‘ بنا دیا: پاک فوج

ٹرمپ نے مزید کہا کہ چین کے اس رویے سے امریکی کسان متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اب اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ ٹرمپ کی جانب سے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات کئی برسوں سے تجارتی محصولات، ٹیکنالوجی، انسانی حقوق اور جغرافیائی تنازعات جیسے مسائل پر کشیدہ ہیں۔

Scroll to Top