سونا اُگتا

وہ کونسا درخت ہے ؟ جس سے سونا اُگتا ہے : سائنسدانوں کی نئی تحقیق نے تہلکہ مچا دیا

دنیا بھر میں موجود کروڑوں درختوں اور پودوں پر لوگ ہمیشہ پھل، سبزیاں، اناج اور پھول اُگتے دیکھتے آئے ہیں، مگر اب سائنس دانوں نے ایک ایسا درخت دریافت کیا ہے جو قیمتی سونا بھی پیدا کرتا ہے۔ اس غیر معمولی انکشاف نے دنیا بھر کے ماحولیاتی و سائنسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے ۔

رواں برس شائع ہونے والی ایک تازہ تحقیق، جو معروف سائنسی جریدے ‘‘انوائرمنٹل مائیکرو بائیوم’’ (Environmental Microbiome) میں شامل کی گئی ہے، کے مطابق صنوبر کے درختوں میں سونے کے باریک ذرات پائے گئے ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ درخت زمین کے نیچے موجود سونے کے ذخائر کی نشاندہی بھی کر سکتے ہیں ۔

تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے شمالی فن لینڈ کے علاقے میں واقع کیٹیلا گولڈ مائن (Kittilä Gold Mine) کے قریب اُگے صنوبر کے درختوں کا جائزہ لیا، جو یورپ کی سب سے بڑی سونا پیدا کرنے والی کان کے طور پر جانی جاتی ہے۔ محققین نے مجموعی طور پر 23 درختوں سے 138 نمونے حاصل کیے، جن میں سے چار درختوں کے نمونوں میں سونے کے ذرات پائے گئے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سونااصلی ہے یا نقلی ؟ پرکھنے کیلئے جدید اے ٹی ایم مشین متعارف

ماہرین کے مطابق صنوبر کے درخت اپنی جڑوں کے ذریعے زمین سے غذائی اجزا کے ساتھ ساتھ سونے کے نہایت باریک ذرات بھی جذب کر لیتے ہیں۔ یہ عمل دراصل درخت کے اندر موجود مخصوص بیکٹیریا کی مدد سے ممکن ہوتا ہے ۔

فن لینڈ کی اولو یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی ماہرِ ماحولیات اور تحقیق کی سربراہ کائیسا لیہوسما (Kaisa Lehosmaa) کے مطابق، پودوں کے اندر پائے جانے والے یہ اینڈوفائٹک بیکٹیریا (Endophytic bacteria) عام طور پر غذائی اجزا کے حصول میں مدد دیتے ہیں، لیکن صنوبر کے درختوں میں یہ سونے کے ذرات کو بھی اپنی جڑوں کے ذریعے اکٹھا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ دریافت مستقبل میں معدنیات کی تلاش کے نئے دروازے کھول سکتی ہے ، کیونکہ ایسے درختوں کے مطالعے سے زمین کے اندر پوشیدہ سونے کے بڑے ذخائر کا سراغ لگانا ممکن ہو سکتا ہے ۔

Scroll to Top