اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)صدر پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر چوہدری محمد یٰسین نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کے مطالبات کے حوالے سے تین وفاقی وزراء پر مشتمل کمیٹی کا آنا ایک ایسا اقدام تھا جو پاکستان کی کشمیریوں سے وابستگی کا ثبوت ہے
چند لوگوں کہ ہٹ دھرمی کی وجہ سے معاملات طے نہیں پا سکے 13 گھنٹے سے زائد مذاکرات اور آن میں زیادہ تر مطالبات پر اتفاق بھی ہو جانا اور مذاکرات کا سبوتاز ہو جانا ریاست کو تصادم کی جانب دھکیلنے کے مترادف ہے۔۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر ایک حساس خطہ ہے اور حال ہی میں معرکہ حق میں افواج پاکستان کی شاندار کامیابی نے بھارت کو دنیا بھر میں رسوا کر کے رکھ دیا ۔۔
ایسے میں بھارتی وزراء کے بیانات کے باوجود کچھ لوگ ریاست میں عدم استحکام چاہتے ہیں جو ایک واضح ایجنڈا دکھائی دیتا ہے۔۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی وزراء کا آنا وفاق کی آزادکشمیر کے حوالے سے فراخدلانہ پالیسی کا حصہ ہے انہوں نے کہا کہ صدرپاکستان آصف علی زرداری کے نوٹس پر آزاد کشمیر کو بڑا ریلیف مل چکا ہے۔۔
اس کے باوجود معاملات کو الجھانے کی کوشش کسی بھی طرح کوئی اچھا اقدام نہیں انہوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی میں شامل سنجیدہ طبقات خود اس کا نوٹس لیں اور ریاست کو انارکی کے طرف لے جانے والوں کا محاسبہ کریں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:لداخ : سول نافرمانی کی تحریک شروع، بھارتی فورسز کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق، 70 زخمی




