ماہرین

وہ عادت جو آپ کی سماعت چھین سکتی ہے : ماہرین نے خبردار کر دیا

لندن (کشمیر ڈیجیٹل) صبح کے خاموش لمحوں میں اکثر لوگ باتھ روم کی الماری سے کاٹن بڈز اٹھا کر کان صاف کرتے ہیں، ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ بظاہر معمولی عادت آپ کی سماعت کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق کان کی موم ایک قدرتی حفاظتی نظام ہے جو کان کو نمی فراہم کرتی ہے، بیکٹیریا سے بچاتی ہے اور گرد و غبار کو اندر جانے سے روکتی ہے ۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کاٹن بڈز کے ذریعے کان صاف کرنے کی کوشش اکثر نقصان دہ ثابت ہوتی ہے ۔

کان کی موم اپنے آپ میں نقصان دہ نہیں بلکہ ایک محافظ ہے ۔ یہ موم وقت کے ساتھ خود باہر نکل آتی ہے یا نہانے کے دوران بہہ جاتی ہے لیکن جب ہم کان میں کاٹن بڈ ڈال کر صفائی کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، تو یہ قدرتی صفائی کے عمل میں خلل ڈال دیتا ہے ۔

کاٹن بڈز کان میں موجود موم کو اندر دھکیل دیتے ہیں ، جو جم کر سخت ہو جاتا ہے اور نتیجتاً کان بند ہو سکتا ہے، سماعت متاثر ہو سکتی ہے اور درد جیسی شکایات پیدا ہو سکتی ہیں ۔ ایک تحقیق کے مطابق صرف امریکہ میں پچھلی دو دہائیوں کے دوران 2,63,000 سے زائد بچے کاٹن بڈز کے باعث زخمی ہو کر ایمرجنسی میں لائے گئے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:میرپور میں ڈینگی کے خطرناک پھیلائوکا انکشاف، احتیاطی تدابیر اختیار کرنیکی ہدایت

برطانیہ میں بھی ہر سال ہزاروں ایسے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر افراد کو کان کی صفائی کی ضرورت ہی نہیں پڑتی ، کیونکہ کان خود اپنا موم صاف کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ اگر کبھی کان بھرا ہوا محسوس ہو، خارش ہو یا سننے میں کمی آ جائے تو بہتر ہے کہ ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے ۔

ڈاکٹر خاص آلات یا سکشن کے ذریعے محفوظ طریقے سے موم نکالتے ہیں ۔ گھر پر احتیاطی تدابیر کے طور پر نہاتے وقت نیم گرم پانی کو کان کے باہر بہانا ، نرم کپڑے سے کان کے دہانے کو صاف کرنا ، یا ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق مخصوص ایئر ڈراپس یا زیتون کے تیل کے چند قطرے ڈالنا مفید ثابت ہو سکتا ہے ۔

ماہرین خصوصاً بچوں کے لیے انتباہ کرتے ہیں کہ بچپن میں کاٹن بڈز یا نوک دار اشیاء استعمال کرنے کی عادت مستقبل میں سماعت کے مسائل پیدا کر سکتی ہے ۔ کان کی موم دشمن نہیں بلکہ محافظ ہے ، اس لیے قدرتی نظام پر بھروسہ کریں اور صرف ضرورت پڑنے پر ڈاکٹرسے رجوع کریں ۔

Scroll to Top