عمر بڑھنے کے ساتھ جسمانی اور ذہنی صحت پر اثرات ظاہر ہوتے ہیں مگر جاپان کی Tohoku یونیورسٹی کی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ورزش کو معمول بنانے سے بڑھاپے کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔تحقیق میں جسمانی سرگرمیوں اور فٹنس کے حیاتیاتی عمر (biological age) پر اثرات کا جائزہ لیا گیا ۔
حیاتیاتی عمر وہ عمر ہے جو جسم اور دماغ کی صحت کے مطابق طے ہوتی ہے اور یہ جینز، طرز زندگی اور دیگر عوامل سے متاثر ہوتی ہے ۔ محققین نے دریافت کیا کہ باقاعدہ ورزش کرنے سے حیاتیاتی عمر کی رفتار سست ہو جاتی ہے ۔
صرف 8 ہفتوں کی ایروبک یا طاقت بڑھانے والی ورزش سے حیاتیاتی عمر میں تقریباً 2 سال کی کمی دیکھی گئی ۔ ورزش دل، جگر، معدے اور چربی کے ٹشوز سمیت متعدد اعضاء کو بڑھاپے کے اثرات سے محفوظ رکھتی ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:یونین کونسل ٹائیں میں ایچ پی وی ویکسینیشن مہم کے تحت آگاہی سیشنز
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ورزش سے دل اور نظام تنفس کی فٹنس بہتر ہونے پر حیاتیاتی عمر کی رفتار میں نمایاں کمی آتی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ ورزش کو اپنی روزمرہ زندگی میں شامل کر کے بڑھاپے کے اثرات بھی کم کیے جا سکتے ہیں ۔




