(کشمیر ڈیجیٹل) دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی K2 سر کرنے کے بعد واپسی پر جاں بحق ہونے والی چینی کوہ پیما گوان جِنگ کی لاش برآمد کرلی گئی ہے، جسے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسکردو کے مردہ خانے منتقل کیا گیا۔
ڈان اخبار کے مطابق یہ حادثہ 12 اگست کو ابزوری اسپر روٹ پر پیش آیا، جو کیمپ ون اور ایڈوانس بیس کیمپ کے درمیان کا راستہ ہے۔ اس حصے میں پتھروں کے گرنے کے واقعات عام ہیں۔ گوان جِنگ نے 11 اگست کو کوہ پیماؤں کے ایک گروپ کے ہمراہ کامیابی سے کے ٹو سر کیا تھا اور واپسی کے دوران حادثے کا شکار ہوئیں۔
الپائن کلب آف پاکستان کے سینئر نائب صدر کرار حیدری نے بتایا کہ پتھر سر پر گرنے سے چینی کوہ پیما موقع پر ہی جاں بحق ہوئیں۔ پاک فوج کے ایوی ایشن ونگ نے کُنکورڈیا سے لاش کو بذریعہ ہیلی کاپٹر منتقل کیا۔ اس سے قبل خراب موسم کے باعث ہیلی کاپٹر پرواز نہیں کر سکے تو کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم نے پیدل لاش نکالنے کی کوشش بھی کی تھی۔
اطلاعات کے مطابق گوان جِنگ کی لاش ایڈوانس بیس کیمپ سے تقریباً 100 سے 150 میٹر اوپر، 5 ہزار 400 میٹر بلندی پر ملی۔ کے ٹو (8 ہزار 611 میٹر) کو دنیا کے سب سے خطرناک اور تکنیکی طور پر مشکل پہاڑوں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں شرح اموات ماؤنٹ ایورسٹ سے کہیں زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ بندی کی شرط: پیوٹن کا یوکرین سے متنازع علاقوں سے فوجی انخلا کا مطالبہ
کرار حیدری نے گوان جِنگ کے اہل خانہ، دوستوں اور عالمی کوہ پیمائی برادری سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موت کوہ پیمائی کے میدان میں ایک بڑا نقصان ہے۔




