پلاسٹک

پلاسٹک بیگز سے اینٹیں بنانے کا جدید اور حیرت انگیز طریقہ جانیے

لاہور: دنیا بھر میں صدیوں سے اینٹیں مٹی ، پانی اور آگ کے امتزاج سے روایتی بھٹوں پر تیار کی جاتی رہی ہیں تاہم اب پاکستان میں ایک نیا اور ماحول دوست طریقہ اپنایا جا رہا ہے پلاسٹک سے بنی اینٹوں کی تیاری شروع کر دی گئی ہے ۔

روایتی اینٹ سازی نہ صرف فضائی آلودگی اور ماحولیاتی نقصان کا باعث بنتی ہے بلکہ توانائی اور وسائل کے بڑے
اخراجات بھی کرتی ہے ۔

اس مسئلے کے حل کے لیے لاہور میں ایک نجی کمپنی نے پلاسٹک کو ری سائیکل کر کے ’’ایکو برکس ٹائلز ‘‘ بنانے کا سلسلہ شروع کیا ہے جو بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر میں استعمال ہوں گی اور مہنگی سیمنٹ اینٹوں کا متبادل ثابت ہوں گی ۔

یہ بھی پڑھیں:وادی لیپہ: سید باسط علی اور پاک فوج کی مشترکہ صفائی مہم، درجنوں مقامات پر ڈسٹبن نصب

کمپنی کے سی ای او گلفام عابد کے مطابق پلاسٹک ایک عالمی چیلنج ہے اور صرف لاہور میں روزانہ 500 ٹن پلاسٹک ضائع ہوتا ہے۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے پلاسٹک کو تعمیراتی مواد میں بدلنے کا منصوبہ بنایا گیا ۔

تحقیق کے بعد یہ طے ہوا کہ شاپنگ بیگز اور چپس پیکٹس کی پلاسٹک کو ریت، بجری اور سیمنٹ کے ساتھ مخصوص تناسب میں ملا کر پائیدار اینٹیں تیار کی جائیں ۔

یہ ماحولیاتی طور پر محفوظ ٹیکنالوجی نہ صرف پلاسٹک ویسٹ کو کم کرے گی بلکہ تعمیراتی لاگت میں بھی نمایاں کمی لائے گی ۔

Scroll to Top