پاکستان میں گائے کے کاٹنے سے ریبیز کی منتقلی کا پہلا کیس رپورٹ

بین الاقوامی طبی جریدے میں شائع ہونے والی ایک غیرمعمولی تحقیق میں پاکستان سے گائے کے کاٹنے سے ریبیز کی منتقلی کا پہلا انسانی کیس رپورٹ ہوا ہے، جس میں ایک 18 سالہ نوجوان کسان کی جان کراچی کے انڈس ہسپتال میں بروقت طبی امداد سے بچ گئی۔

نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ تحقیق ’’A Rabid Cow Bites the Hand That Feeds It‘‘ کے عنوان سے انٹرنیشنل جرنل آف انفیکشیس ڈیزیزز میں شائع ہوئی۔ تحقیق کے مطابق نوجوان کسان کو اس وقت گائے نے ہاتھ اور انگوٹھے پر کاٹ لیا جب وہ اسے چارہ دے رہا تھا۔ خوش قسمتی سے متاثرہ نوجوان کو ریبیز کے خطرے کا ادراک تھا، جس پر اس نے فوراً انڈس ہسپتال کے ریبیز پریوینشن اینڈ ٹریننگ سینٹر سے رجوع کیا۔

چونکہ زخم شدید نوعیت کے تھے، اس لیے طبی طور پر ویکسین اور ریبیز امیونوگلوبیولن (RIG) دی جاتی ہے، تاہم کسان کو 4 سال قبل کتے کے کاٹنے پر مکمل ویکسینیشن دی جا چکی تھی، اس لیے صرف ویکسین کافی سمجھی گئی۔ اس کا بروقت علاج شروع ہوا اور جسم میں اینٹی باڈیز پیدا ہونے سے اس کی جان بچ گئی۔ ڈسچارج کے وقت متاثرہ نوجوان کو ہدایت کی گئی کہ وہ گائے کا مشاہدہ جاری رکھے۔ تین ہفتے بعد اس نے اطلاع دی کہ گائے کے رویے میں غیرمعمولی تبدیلی آئی ہے اور چند دن بعد وہ مر گئی۔ گائے کے دماغی ٹشو پر کیے گئے ٹیسٹ سے ثابت ہوا کہ وہ ریبیز زدہ تھی۔

دیہاتیوں کے مطابق اس گائے کو کچھ دن قبل ایک آوارہ کتے نے کاٹا تھا، تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ وہی کتا کسی اور انسان یا جانور کو بھی کاٹ چکا ہے یا نہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ریبیز عموماً کتے کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور بروقت علاج نہ ہونے پر 100 فیصد مہلک ثابت ہوتی ہے۔ ہر سال دنیا بھر میں 60 ہزار سے زائد افراد ریبیز کے باعث ہلاک ہوتے ہیں، جن میں زیادہ تر کا تعلق دیہی علاقوں سے ہوتا ہے۔

اس کیس کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے انڈس ہسپتال کی انفیکشن اسپیشلسٹ اور تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر نسیم صلاح الدین نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب پاکستان میں کسی انسان کو گائے کے ذریعے ریبیز منتقل ہوا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ دیہات میں مویشیوں، بھینسوں اور گدھوں میں ریبیز کے کیسز پہلے بھی دیکھے گئے ہیں، تاہم انسانوں کو اس سے متاثر ہوتے کم ہی دیکھا گیا ہے۔

ڈاکٹر نسیم نے حکومت کو متنبہ کیا کہ مویشیوں میں ریبیز نہ صرف لائیو اسٹاک کے لیے خطرہ ہے بلکہ انسانوں کے لیے بھی جان لیوا ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دیہی معیشت کا انحصار مویشیوں پر ہے اور ان کی ہلاکت کسانوں کے لیے معاشی تباہی کے مترادف ہے۔ تحقیق کے مطابق پاکستان میں لائیو اسٹاک کا زرعی معیشت میں 37.5 فیصد اور جی ڈی پی میں 9.4 فیصد حصہ ہے، جب کہ 3.5 کروڑ افراد اس شعبے سے وابستہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مویشیوں کی صحت اور بیماریوں پر مؤثر نگرانی ناگزیر ہو چکی ہے۔

تحقیق میں حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ دیہی علاقوں میں ریبیز کی روک تھام کے اقدامات کیے جائیں، ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس کو مستحکم کیا جائے، طبی عملے کو تربیت دی جائے، اور ویکسین و RIG کا مناسب ذخیرہ یقینی بنایا جائے۔ اعداد و شمار کے مطابق انڈس ہسپتال میں 2013 میں جانوروں کے کاٹنے کے 13,330 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 94 فیصد کتے کے اور 6 فیصد دیگر جانوروں جیسے بلی، گدھے، گھوڑے اور گائے کے کاٹنے کے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: وادی نیلم میں دیودار کی لکڑی کی اسمگلنگ ناکام، سیاسی شخصیت اور ان کے بیٹے کے خلاف مقدمہ درج

تحقیق کے مطابق گائے میں ریبیز کی علامات میں رال بہنا، پاگل پن، رویے میں تبدیلی، چڑچڑاپن، فالج اور آخرکار موت شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جانوروں میں ریبیز کے کیسز رپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے بیماری کا پھیلاؤ روکا نہیں جا رہا، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

Scroll to Top