وبائی امراض سے بچاؤ کی نئی حکمتِ عملی: پاکستان میں ‘ون ہیلتھ’ منصوبہ فعال

اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB)، فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) نے حکومتِ پاکستان کے اشتراک سے ملک بھر میں ’ون ہیلتھ یونٹس‘ کے قیام کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ اقدام پاکستان میں وبائی امراض سے نمٹنے، تیاری اور ردعمل کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے پینڈیمک فنڈ کے تحت اٹھایا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کو پینڈیمک فنڈ سے ایک کروڑ 87 لاکھ ڈالر فراہم کیے گئے ہیں جب کہ منصوبے کے لیے مزید 41 لاکھ ڈالر کی مالی معاونت اور 4 کروڑ 97 لاکھ ڈالر کی شریک سرمایہ کاری حاصل کی گئی ہے۔ پینڈیمک فنڈ حکمتِ عملی نیشنل ایکشن پلان فار ہیلتھ سیکیورٹی (NAPHS) اور انٹرنیشنل ہیلتھ ریگولیشنز (IHR) سے ہم آہنگ ہے اور ’ون ہیلتھ‘ کو ایک مربوط فریم ورک کے طور پر اپناتی ہے جو انسانی، حیوانی اور ماحولیاتی صحت کے باہمی تعلق کو تسلیم کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی متعدی بیماریوں کی 75 فیصد سے زائد اقسام جانوروں سے جنم لیتی ہیں جن میں اینٹی مائیکروبیل ریزیسٹنس (AMR) اور موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والی بیماریاں شامل ہیں۔ اسی تناظر میں ’ون ہیلتھ یونٹس‘ کا قیام ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ قومی مشاورت اس منصوبے کی پہلی سرگرمی تھی جس میں کوویڈ-19 سے حاصل شدہ اسباق کی بنیاد پر ملک کی صحت سے متعلق ہم آہنگی کو مستحکم بنانے پر زور دیا گیا۔

وزارتِ صحت کی قیادت میں ADB، FAO اور WHO اس منصوبے کے نافذ کرنے والے شراکت دار ہوں گے، جبکہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) منصوبے کا سیکریٹریٹ ہوگا۔ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ، ڈاکٹر شبانہ سلیم نے پینڈیمک فنڈ کو پاکستان جیسے ممالک کے لیے ایک اہم موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے نہ صرف سرویلنس سسٹمز کو بہتر بنایا جا سکتا ہے بلکہ لیبارٹری نیٹ ورکس اور کمیونٹی سطح پر صحت سے متعلق اقدامات میں بھی وسعت لائی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مربوط، بین القطاعاتی ردعمل قومی اور عالمی سطح پر صحتِ عامہ کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

ڈاکٹر شبانہ سلیم کے مطابق  ’ون ہیلتھ‘ کو رہنما اصول کے طور پر اپنا کر ہم ایک ایسا پائیدار اور لچک دار نظامِ صحت تشکیل دے سکتے ہیں جو پیچیدہ صحت کے خطرات سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہو۔ ایف اے او کی نمائندہ فلورنس رولے نے زونوٹک خطرات، اے ایم آر اور فوڈ سیفٹی جیسے شعبوں میں پاکستان کی پیش رفت اور بین القطاعاتی تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پینڈیمک فنڈ ایک موقع ہے کہ ہم مضبوط عزم کے ساتھ عمل کی طرف بڑھیں، اور یہ سب مربوط ڈھانچوں کے ذریعے ممکن ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر داپینگ لو کا کہنا تھا کہ کوویڈ-19 نے دنیا کو سکھا دیا ہے کہ بہتر ہم آہنگی اور مضبوط نظامِ صحت اب کوئی آپشن نہیں بلکہ ناگزیر ہے، اور ڈبلیو ایچ او اس مشن میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بجلی صارفین کیلئے خوشخبری: حکومت کا پی ٹی وی فیس ختم کرنے کا فیصلہ

اے ڈی بی کے سینئر پروجیکٹ آفیسر منصور علی مسعود کے مطابق یہ مشاورت ’ون ہیلتھ یونٹس‘ کو ادارہ جاتی شکل دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو مستقبل کے صحت کے خطرات کی روک تھام، شناخت اور ردعمل میں مدد دے گی۔

Scroll to Top