بھارتی پولیس نے ہریانہ، پنجاب اور دہلی میں ایک خاتون بلاگر اور یونیورسٹی پروفیسر سمیت متعدد افراد کو پاکستان سے مبینہ روابط اور حالیہ کشیدگی سے متعلق بیانات کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے ایک سیاحتی مقام پر بھارت کے جھوٹے فلیگ آپریشن کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع میں بین الاقوامی سطح پر ناکامی کے بعد بھارت خوف و ہراس کی حالت میں ہے اور مختلف طریقوں سے اپنے ہی شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے دوران بھی انڈین مین سٹریم میڈیا میں جھوٹ کا بازار گرم رہا اور بھارتی میڈیا میں صرف جھوٹی بے بنیاد خبریں نشر کی گئیں جس کی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی تصدیق کی۔
بعد ازاں 6-7 مئی کی رات بھارتنے پاکستان پر فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کیا جس کے جواب میں پاکستان نے 5 بھارتی طیارے مار گرائے۔
دس مئی کو پاک فوج نے آپریشن بنیان مرصوص شروع کیا جس میں 26 ہندوستانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ 10 مئی کو ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت سے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہوا ۔
یہ خبر بھی پڑھیں ۔پاکستان کیلئے جاسوسی کے الزام میں معروف بھارتی خاتون یوٹیوبر گرفتار
بھارتی پولیس نے ہریانہ کی اشوک یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر علی خان محمود آباد کو دہلی میں ان کے گھر سے گرفتار کر لیا۔ انہیں آپریشن سندھور کے حوالے سے بیان دینے پر گرفتار کیا گیا ۔
ہریانہ کے سونی پت ضلع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے یوتھ ونگ کے جنرل سیکرٹری یوگیش جھتری نے بھارتی پروفیسر کے خلاف شکایت درج کروائی جس کی تصدیق ان کے وکیل نے کی۔
علی خان محمود آباد پر فرقہ وارانہ بیانات، نفرت انگیز مہم، بغاوت، تخریبی سرگرمیوں پر اکسانے اور مذہبی عقائد کی توہین کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
اشوک یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے سربراہ نے 8 مئی کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں دائیں بازو کے ہندوتوا خیالات رکھنے والی شخصیات کی طرف سے کرنل صوفیہ قریشی کی تعریف میں تضاد کی نشاندہی کی۔
محمود آباد نے کہا دو خواتین فوجی افسران کی بریفنگ ایک اہم علامتی عمل ہے، لیکن اگر ان علامتوں کا زمینی طور پر حقیقت میں ترجمہ نہیں کیا جاتا ہے تو یہ محض منافقت ہی رہتی ہے۔
دوسری جانب بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی پولیس نے پنجاب اور ہریانہ سے تعلق رکھنے والے ٹریول بلاگر جیوتی ملہوترا کو پاکستان کے لیے مبینہ طور پر جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا، جن میں ایک 25 سالہ طالب علم اور ایک 24 سالہ سیکیورٹی بھی شامل ہے جس کا تعلق پنجاب اور ہریانہ سے ہے۔
جیوتی ملہوترا جن کا تعلق ہریانہ کے حصار ضلع سے ہے ایک یوٹیوب چینل چلاتی ہیں یوٹیوب پر ان کے 3.5 لاکھ فالوورز ہیں اور انسٹاگرام پر 1 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں، اور ان کے انسٹاگرام اور یوٹیوب چینل پر ان کے پاکستان کے سفر کی ویڈیوز بھی موجود ہیں۔
یوٹیوبرکو ہندوستان کے آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت حراست میں لیا گیا ہے اس پرپاکستانی حکام کو حساس معلومات فراہم کرنے کا الزام ہے۔
She is not spying she is only making a video for her YouTube channel. Spies don’t make videos for public use they make secret videos for secret use. Pakistan doesn’t need these kind of spies. https://t.co/04D2KrGxU7
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) May 17, 2025




