راولاکوٹ : عالمی یوم مزدور کے موقع پر آل ایمپلائز کنفیڈریشن کے زیر اہتمام راولاکوٹ میں ایک احتجاجی ریلی اور جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف طلبہ و محنت کش تنظیموں نے شرکت کی۔ اس موقع پر شہدائے شکاگو کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور محنت کشوں کو درپیش مسائل پر بھرپور آواز بلند کی گئی۔
احتجاجی ریلی کا آغاز کالج گراؤنڈ راولاکوٹ سے ہوا، جس میں جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (این ایس ایف)، پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC)، پیپلز ریوولوشنری فرنٹ (PRF) سمیت دیگر طلبہ و مزدور تنظیموں نے بھرپور شرکت کی۔ ریلی میں تمام سرکاری محکموں کے مرد و خواتین ملازمین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور وہ شہداء شکاگو کی قربانیوں کو سلام پیش کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ دور میں محنت کشوں کو درپیش مسائل کے خلاف بھرپور نعرے بازی کر رہے تھے۔
ریلی کا اختتام احاطہ کچہری راولاکوٹ میں ہوا، جہاں ایک بھرپور جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا۔ جلسے کی نظامت ضلعی جنرل سیکرٹری فنی ملازمین سردار داؤد رفیق نے سرانجام دی۔ جلسے سے سرپرست اعلیٰ آل ایمپلائز کنفیڈریشن ڈاکٹر خالد محمود، صدر سردار خورشید خان، صدر ایپکا سردار امتیاز خان، مرکزی سیکرٹری جنرل فنی ملازمین لالی قیوم، رہنما ایڈہاک ورکرز موومنٹ التمش تصدق، رہنما پیپلز ریوولوشنری فرنٹ حلیم ساجد، چیئرمین سٹڈی سرکل این ایس ایف بدر رفیق، ہیلتھ ایمپلائز کی ذمہ دار صفیہ بیگم، پرائیویٹ ٹیچرز آرگنائزیشن کی صابیہ اختر، رہنما آر سی پی یاسر ارشاد، ایس ایم عارف، طالب بشیر، ایس ایم زاہد، منصور شفیق، سردار ارشاد خان، فیض احمد، شیخ ذوالفقار، اعجاز شاہسوار اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔
مقررین نے اپنے خطابات میں ایم این سی ایچ ملازمین پر ہونے والے تشدد اور گرفتاریوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور ریاستی جبر کو محنت کشوں کی آواز دبانے کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے لاہور میں ہیلتھ ایمپلائز پر ہونے والے تشدد کو بھی ریاستی بربریت قرار دیتے ہوئے اسے مزدور دشمنی سے تعبیر کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر ان ملازمین کے جائز مطالبات تسلیم کرے اور ظلم کا راستہ ترک کرے۔
مقررین نے جموں کشمیر سمیت پاکستان بھر کے محنت کشوں کی جدوجہد کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور آزاد کشمیر میں سرکاری ملازمین کو درپیش مسائل کی فوری حل پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری نہیں دی جاتی، یہ تحریک جاری رہے گی اور کسی بھی دباؤ یا جبر سے مرعوب نہیں ہوا جائے گا۔
شہدائے شکاگو کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ ان عظیم شہداء نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر آٹھ گھنٹے اوقات کار اور کم از کم اجرت جیسے بنیادی حقوق دنیا بھر کے محنت کشوں کو دلائے، لیکن آج ایک بار پھر دہائیوں کی جدوجہد سے حاصل کیے گئے حقوق واپس چھینے جا رہے ہیں۔ مقررین نے یہ بھی کہا کہ جموں کشمیر کی سرزمین پر بھی شہداء شکاگو سے 21 سال قبل، یعنی 1865 میں محنت کشوں نے منصفانہ اجرت اور اوقات کار کے لیے علم بلند کیا تھا اور اپنی جانوں کی قربانی دے کر ایک عظیم تحریک کی بنیاد رکھی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: محنت کشوں کے عالمی دن پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کا محنت کشوں کے لیے خصوصی پیغام
مقررین نے اعلان کیا کہ محنت کشوں کے عالمی دن کو محض رسم کی حد تک منانے کے بجائے ایک تحریک میں تبدیل کیا جائے گا اور اس جدوجہد کو حتمی کامیابی، مسائل کے حل اور حقیقی مزدور راج کے قیام تک جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف ہر پلیٹ فارم پر آواز بلند کی جائے گی اور آنے والے دنوں میں یہ تحریک مزید وسعت اختیار کرے گی۔




