مظفرآباد : معروف سیاسی کارکن شوکت جاوید میر نے پہلگام میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت ہر واقعے کا الزام پاکستان پر ڈالنے کی پرانی روش پر قائم ہےاوراگر بھارت میں تیز آندھی بھی چل جائے تو اس کا الزام پاکستان پر لگا دیا جاتا ہے۔
شوکت جاوید میر نے کہا کہ پہلگام جیسا حساس علاقہ جہاں چار لاکھ بھارتی فوج تعینات ہے، وہاں اتنا بڑا حملہ پیش آنا سیکیورٹی اداروں کی مکمل ناکامی اور ایک گہری سازش کا نتیجہ ہے۔ “یہ محض اتفاق نہیں، بلکہ ایک منظم منصوبہ بندی ہے، جس کا مقصد تحریک آزادی کشمیر کو بدنام کرنا اور عالمی توجہ کو گمراہ کرنا ہے۔”
شوکت جاوید میر نے مزید کہا کہ جب بھارتی وزیراعظم نے جارحیت پر مبنی بیانات دیے، تو پاکستان کے سپہ سالار نے بہادری سے جواب دیا، اور اسی کے ردعمل میں بھارت نے یہ سازش تیار کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارت کی تاریخ پاکستان کے خلاف سازشوں سے بھری پڑی ہے، مگر یہ سازشیں ہمیشہ ناکام ہوئیں اور بھارت خود بے نقاب ہوا۔ انہوں نے لائن آف کنٹرول (LOC) پر بھارتی افواج کی بھاری موجودگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ، “اگر اتنی فوج وہاں تعینات ہے تو پھر سیکیورٹی کی یہ حالت کیوں ہے؟ حالات اتنے سنگین کیوں ہیں؟”
شوکت جاوید میر نے مسئلہ کشمیر کو ایک ابھرتی ہوئی حقیقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی محض سیاسی یا مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ایسا معاملہ ہے جو خود رو پودے کی طرح ہر روز بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو سنجیدگی سے حل کرے، کیونکہ تحریک آزادی کشمیر ایک ناقابلِ انکار حقیقت بن چکی ہے۔
سابق چیئرمین ڈیم اور پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما ذاہد امین کاشف نے پہلگام میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان نے ایک منصوبہ بندی کے تحت اپنے شہریوں کو پہلگام میں مروایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں لیکن چار لاکھ افواج جو صرف پہلگام میں تعینات ہے انکی موجودگی میں اتنا بڑا واقعہ کیسے رونما ہو سکتا ہے۔ہندوستان اب اپنی منافقانہ چالوں سے دنیا کو بیوقوف نہیں بنا سکتا ۔
یہ بیانات ایسے وقت میں آرہے ہیں جب معروف سیاحتی مقام پہلگام میں نامعلوم افراد کے حملے میں 27 سیاحوں کی ہلاکت اور کم از کم 20 کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ حملہ بیسرن کے مقام پر منگل کے روز پیش آیا، جہاں فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد کا تعین جاری ہے جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اس وقت بھارت کے چار روزہ دورے پر ہیں۔ اس اہم بین الاقوامی موقع پر پیش آنے والا یہ واقعہ کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
ادھر پہلگام واقعے پر لال چوک سرینگر سے کشمیری عوام نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر حکومتی، انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اداروں کی ناکامی قرار دیا ہے۔ مقامی شہریوں کا کہنا تھا کہ “یہاں سات لاکھ بھارتی فوج تعینات ہے، پھر یہ حملہ کیسے ممکن ہوا؟” انہوں نے کہا کہ اس واقعے کا مقصد صرف مسلمانوں اور کشمیریوں کو بدنام کرنا ہے۔ ایک شہری نے جذباتی انداز میں کہا، “ہم یہاں کے پیدائشی ہیں، کشمیریوں نے کبھی کسی سیاح کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ ہم حکومت سے سوال کریں گے کہ یہ سب کیسے ہوا؟”
کشمیریوں کا کہنا ہے کہ انہیں دنیا کے سامنے دہشتگرد ظاہر کرنے کی یہ ایک اور مذموم کوشش ہے، جس کا وہ ہر فورم پر مقابلہ کریں گے۔
واضح رہے 2000ء میں اس وقت کے امریکی صدر بل کلنکٹن کے دورہ بھارت کے موقع پر تحریک آزادی کشمیر کو بدنام کرنے کے لئے بھارتی ایجنسیوں نے چھٹی سنگھ پورہ میں سکھوں کا قتل عام کیا تھا جس میں درجنوں سکھ مارے گئے تھے۔بھارت میں جب بھی کوئی اہم امریکی وفد دورہ کرتا ہے، تو کشمیر میں سیاحوں پر حملے شروع ہو جانا محض اتفاق نہیں بلکہ ایک گہری منصوبہ بندی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین ان واقعات کو ایک منظم سازش قرار دیتے ہیں جس کا مقصد نہ صرف پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنا ہے بلکہ بھارت کو خود کو دہشتگردی کا شکار ظاہر کر کے ہمدردی حاصل کرنا ہے۔ حالیہ پہلگام حملہ اور ماضی میں پیش آیا چٹی سنگھ پورہ قتل عام اسی تسلسل کی واضح مثالیں ہیں۔ تجزیہ کاروں کا مطالبہ ہے کہ ان واقعات کی آزاد اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ سچائی دنیا کے سامنے آ سکے اور اصل مجرموں کو بے نقاب کیا جا سکے۔




