برازیل صدارتی انتخابات: لوئیز اناسیو لولا دا سلوا چوتھی بار صدر منتخب

برازیل میں منعقد ہونے والے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں بائیں بازو کے رہنما اور موجودہ صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے تاریخی اور ڈرامائی کامیابی حاصل کرتے ہوئے چوتھی مرتبہ ملک کے صدر کا عہدہ اپنے نام کر لیا ہے اور منصبِ صدارت سنبھالنے کی راہ ہموار کر لی ہے۔

سرکاری اور حتمی انتخابی نتائج کے مطابق بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لولا دا سلوا نے 51.8 فیصد یعنی 51.75 فیصد (51.79%) ووٹ حاصل کر کے فتح حاصل کی، جبکہ ان کے حریف دائیں بازو کے رائفٹ امیدوار فلیویو بولسونارو کو 48.2 فیصد یعنی 48.25 فیصد (48.21%) ووٹ مل سکے، جس کے بعد لولا دا سلوا نے اپنے مخالف کے مقابلے میں تقریباً 44 لاکھ زیادہ ووٹ حاصل کر کے ایک بار پھر برازیل کے اقتدار کی باگ ڈور سنبھال لی ہے۔

لولا دا سلوا کی یہ غیر معمولی کامیابی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ارجنٹینا، چلی، کولمبیا اور پیرو سمیت خطے کے متعدد ممالک میں دائیں بازو کی سیاست کو کافی تقویت ملی ہے۔

مخالف امیدوار کا اعتراض اور نتائج چیلنج کرنے کا اعلان:

دوسری جانب 45 سالہ فلیویو بولسونارو نے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ ان نتائج کو کالعدم قرار دینے کے لیے درخواست دائر کریں گے۔ فلیویو بولسونارو سابق انتہائی دائیں بازو کے صدر ژائیر بولسونارو کے بیٹے ہیں، جو 2022 کے انتخابات میں لولا دا سلوا سے شکست کے بعد مبینہ طور پر بغاوت کی کوشش کے جرم میں 27 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ فلیویو نے موقف اختیار کیا کہ ووٹنگ کے وقت میں 2 گھنٹے کا اضافہ کرنا ناقابلِ قبول اور ایک ‘گندی چال’ تھا، جس کی وجہ سے وہ ان نتائج کو تسلیم نہیں کرتے۔

یہ بھی پڑھیں: مڈٹرم الیکشن، ڈیموکریٹس کی جیت ٹرمپ کیلئے کیا مشکلات پیدا کرسکتی ہے؟

سپریم کورٹ کا فیصلہ، وقت میں توسیع اور سفری مسائل:

انتخابات کے دوران اتوار کے روز سپریم کورٹ کی جانب سے آخری لمحات میں ایک انتہائی غیر معمولی اقدام سامنے آیا، جس کے تحت بعض پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹنگ کی مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد بھی وقت میں دو گھنٹے کی توسیع کی ہدایت کی گئی تھی۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب لولا دا سلوا نے شکایت کی تھی کہ مختلف شہروں میں بسیں سڑکوں سے ہٹائے جانے کے باعث شہری نقل و حمل کے مسائل کا شکار ہیں اور ووٹ ڈالنے سے محروم رہ سکتے ہیں۔ دوسری طرف فلیویو نے بھی شدید بارشوں کے باعث بعض علاقوں میں وقت بڑھانے کی درخواست کی تھی، تاہم نتائج کے بعد انہوں نے اس التوا پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

لولا کی مہم کا زور اور شہریوں کی شرکت:

پہلے مرحلے میں شکست کا سامنا کرنے کے بعد لولا دا سلوا کی انتخابی مہم نے دوبارہ زبردست زور پکڑا۔ ان کے حامیوں نے بڑے عوامی اجتماعات منعقد کیے اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر مہم کو مزید تیز کر دیا۔ اس مہم کے نتیجے میں ووٹنگ سے گریز کرنے والے شہریوں کی شرح پہلے مرحلے کے 21 فیصد سے کم ہو کر 19 فیصد پر آ گئی۔ سپریم کورٹ کے حکم پر وقت میں کی گئی توسیع کے بعد عوام کی بڑی تعداد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا، جس کے بعد گنتی کا عمل مکمل ہوا اور برازیلی عوام نے ایک بار پھر لولا پر اعتماد کا اظہار کیا۔

جمہوریت کا تحفظ اور عوام کا جشن:

کامیابی حاصل کرنے کے بعد لولا دا سلوا نے اپنے بیان میں کہا کہ عوام کو یہ باور کرایا گیا تھا کہ اس وقت ووٹ ڈالنا ملک میں جمہوریت کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم ہے۔ فتح کی خبر عام ہوتے ہی ان کی سیاسی جماعت ورکرز پارٹی کے حامیوں نے ریو ڈی جنیرو اور ساؤ پالو سمیت ملک کے مختلف بڑے شہروں میں سڑکوں پر نکل کر جشن منایا۔ اس موقع پر لولا دا سلوا نے سوشل میڈیا کمپنیوں کو ضابطوں کا پابند بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا، کیونکہ ان کی مہم نے میٹا پر الگورتھم کے ذریعے مخالف امیدوار کو فائدہ پہنچانے کا الزام لگایا تھا، اگرچہ میٹا کمپنی نے اس الزام کی باقاعدہ تردید کی تھی۔

لولا دا سلوا کا سیاسی سفر اور ماضی کی کارکردگی:

لولا دا سلوا نے انتہائی غربت سے اقتدار تک کا کٹھن سفر طے کیا اور وہ سب سے پہلے 2003 میں ملک کے صدر منتخب ہوئے تھے، جس کے بعد 2006 میں انہوں نے دوبارہ کامیابی حاصل کی تھی۔ بعد ازاں بدعنوانی کے ایک مقدمے میں وہ 18 ماہ سے زائد عرصے تک قید رہے، تاہم ان کے خلاف الزامات طریقۂ کار کی بنیاد پر کالعدم قرار دے دیے گئے اور وہ 2022 میں دوبارہ اقتدار میں واپس آئے۔ ان کے گزشتہ ادوارِ حکومت میں مہنگائی اور بے روزگاری میں نمایاں کمی آئی تھی اور لاکھوں افراد کو بھوک کی لکیر سے نکالنے میں مدد ملی تھی، تاہم اس وقت بھی ملک میں مہنگائی، جرائم اور اشیائے ضروریہ کی بلند قیمتوں پر عوامی تشویش برقرار ہے۔

بین الاقوامی چیلنجز اور خود مختاری کا عزم:

تقریباً نصف ووٹرز کی مخالفت کے باوجود چوتھی بار صدارت کا منصب سنبھالنے والے لولا دا سلوا کو اب دائیں بازو کے غلبے والی کانگریس اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ تجارتی و سفارتی دباؤ کا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اپنی اس سرپرائز اور تاریخی کامیابی کے بعد لولا دا سلوا نے عزم ظاہر کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ برازیل ایک آزاد ملک ہے اور وہ کسی بھی دوسرے ملک کا تابع بننے کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔