کوٹلی میں ریسکیو 1122 اور سول ڈیفنس کے زیراہتمام 8 اکتوبر کے شہداء کی یاد میں دعائیہ تقریب

کوٹلی: آٹھ اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلے کے شہداء کی یاد میں ریسکیو 1122 اور سول ڈیفنس کے مشترکہ زیراہتمام ایک پروقار دعائیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب میں زلزلے کے دوران جاں بحق ہونے والے تمام افراد کو بھرپور انداز میں خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔

اس المناک زلزلے کی یاد کو تازہ کرنے کے لیے ٹھیک صبح آٹھ بج کر باون منٹ (8:52) پر سائرن بجائے گئے اور اس موقع پر ایک منٹ کی مکمل خاموشی بھی اختیار کی گئی۔ سائرن کی دل دہلا دینے والی آواز نے آٹھ اکتوبر 2005 کے اس ہولناک سانحے کی یاد تازہ کر دی، جب ایک شدید تباہ کن زلزلے نے آزاد کشمیر سمیت خطے کے مختلف حصوں میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان مچایا تھا اور ہزاروں معصوم خاندان متاثر ہوئے تھے۔

افسران کے خیالات اور اداروں کا کردار:

اس موقع پر اے ڈی ریسکیو 1122 ماجد رزاق اور اے ڈی سول ڈیفنس سردار عظیم اختر نے تقریب کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 8 اکتوبر 2005 کا زلزلہ آزاد کشمیر کی تاریخ کا ایک انتہائی المناک سانحہ ہے، جس کے گہرے اثرات آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سانحے نے نہ صرف بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا نقصان کیا بلکہ ہزاروں خاندانوں کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ املاک، انفراسٹرکچر اور معاشی سرگرمیوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ قدرتی آفات اور ہنگامی حالات کے دوران ریسکیو 1122، سول ڈیفنس کے اہلکار اور رضاکاران امدادی سرگرمیوں میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سیلاب، زلزلے، آگ لگنے کے ناگہانی واقعات اور دیگر ہنگامی صورتحال میں یہ تربیت یافتہ ریسکیو اہلکار اور رضاکاران متاثرہ افراد کو بروقت امداد فراہم کرنے، قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ اور ہنگامی حالات سے احسن طریقے سے نمٹنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں انجام دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم آزاد کشمیر کا یوم شہدائے زلزلہ کے موقع پر خصوصی پیغام، شہداء کو خراج عقیدت

آگاہی کی ضرورت اور اختتامی دعا:

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 8 اکتوبر کے سانحے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے عوام میں شعور و آگاہی، احتیاطی تدابیر اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تربیت کو فروغ دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ریسکیو اداروں اور سول ڈیفنس کے رضاکاران کی تربیت اور استعداد کار میں مزید اضافہ کرکے کسی بھی ناگہانی صورتحال میں ممکنہ نقصانات کو کم سے کم کیا جاسکتا ہے۔

تقریب کے بعد ریسکیو 1122 اور سول ڈیفنس کی گاڑیوں نے سائرن بجاتے ہوئے پورے شہر کا خصوصی چکر لگایا اور 8 اکتوبر 2005 کے شہداء کی یاد تازہ کرتے ہوئے عوام کو اس قومی سانحے کو یاد رکھنے اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے اجتماعی ذمہ داری کا احساس دلایا۔ تقریب کے آخر میں ملکی سلامتی و استحکام، خوشحالی، مقبوضہ کشمیر کی آزادی اور 8 اکتوبر 2005 کے زلزلے میں شہید ہونے والے تمام افراد کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔