ٹوکیو کی سیر کرنے والے سیاح اکثر خالی کافی کپ اور ریپر لیے پریشان نظر آتے ہیں کیونکہ جاپان اپنی صفائی ستھرائی کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہونے کے باوجود پبلک مقامات پر کچرے کے ڈبے آسانی سے فراہم نہیں کرتا ہے۔
سیاحوں کے لیے یہ صورتحال کافی الجھن کا باعث بنتی ہے اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز بھی موجود ہیں جن میں سیاح صاف ستھری سڑکوں پر کچرے دان کی تلاش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ول ولیمز کالج کی تاریخ کی پروفیسر اور کتاب “ویسٹ: کنزیومنگ پوسٹ وار جاپان” کی مصنفہ ایکو ماروکو سینیاور کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کی اصل حقیقت اتنی سادہ نہیں ہے جتنا کہ پہلی نظر میں محسوس ہوتا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ یہ تاریخی پیش رفت، معاشی مظاہر، سیاسی واقعات اور ان کے لوگوں کے رویوں پر پڑنے والے اثرات کا ایک پیچیدہ مرکب ہے۔جاپان ہمیشہ سے ایسا ملک نہیں تھا جہاں کچرے کے ڈبے موجود نہ ہوں۔
پروفیسر سینیاور مارچ 1995 کو جاپان کے کچرے دان کے کلچر میں ایک بڑے موڑ کے طور پر نشان زد کرتی ہیں جب اوم شینریکیو نامی کلٹ کے ارکان نے صبح کے رش کے وقت ٹوکیو میٹرو کی تین لائنوں پر زہریلی سارین sarin gasگیس چھوڑی تھی جس کے نتیجے میں چودہ افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔
اس واقعے کے بعد حکام نے دہشت گردی سے بچاؤ کے اقدامات کے تحت کچرے کے ڈبے یا تو بند کر دیے یا پھر انہیں ہٹا دیا۔
امریکہ میں نائن الیون سمیت دنیا بھر میں پیش آنے والے بعد کے دہشت گردانہ حملوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ یہ حفاظتی اقدامات اپنی جگہ پر قائم رہیں۔
تاہم تین دہائیوں کا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی صرف سیکیورٹی اس بات کی مکمل وضاحت نہیں کرتی کہ اتنے کم کچرے کے ڈبے کیوں واپس آئے ہیں اور نہ ہی یہ بتاتی ہے کہ جاپان اب بھی اس قدر کچرے سے پاک کیوں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جاپانیوں نے کپڑوں میں اے سی لگوا لیے، دفتری ملازمین کے لیے حیرت انگیز ایجاد متعارف
اس صورتحال میں لاگت اور عملیت پسندی بھی ایک اہم عنصر کا کردار ادا کرتی ہے۔
جاپان کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار انوائرمنٹرل سٹڈیز سے تعلق رکھنے والی آیا یوشیدہ کا کہنا ہے کہ سن دو ہزار کے بعد سے کچھ بلدیاتی اداروں نے جان بوجھ کر سڑکوں پر موجود کچرے کے ڈبوں کی تعداد میں کمی کی ہے تاکہ لوگوں کو اس بات کی ترغیب دی جا سکے کہ وہ اپنا کچرہ اپنے ساتھ گھر لے جائیں۔
آیا یوشیدہ مزید کہتی ہیں کہ مثال کے طور پر سن دو ہزار گیارہ کے بعد سے کیوتو میں سڑکوں پر موجود کچرے کے ڈبوں کی تعداد میں آدھی سے زیادہ کمی کی گئی ہے کیونکہ اس دوران کچرے کے ڈبوں میں گھریلو کچرہ ڈالنے اور ان کے ارد گرد گندگی جمع ہونے کے مسائل پیدا ہوئے تھے جن سے ان ڈبوں کی دیکھ بھال اور انتظام کے اخراجات میں اضافہ ہو گیا تھا۔
آیا یوشیدہ خبردار کرتی ہیں کہ جاپان کی شاندار صفائی کو کسی منفرد جاپانی قسم کے سلیقے سے منسوب نہیں کیا جانا چاہیے۔وہ زور دے کر کہتی ہیں کہ صاف ستھری سڑکیں برسوں کی سوچی سمجی پالیسی کا نتیجہ بھی ہیں کیونکہ دہائیوں سے بلدیاتی اداروں نے کچرہ پھیلانے سے روکنے والی مہمات، عوامی تعلیم، سڑکوں کی صفائی اور ماحولیاتی ڈیزائن کے اقدامات میں سرمایہ کاری کی ہے۔
ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ سماجی اقدار بھی اس معاملے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں جن میں سے ایک میواکو او کینائی کا نظریہ ہے جس کا مطلب دوسروں کو تکلیف دینے سے بچنا ہے۔روایتی روزمرہ کی عادات بھی اس میں اپنا حصہ ڈالتی ہیں کیونکہ چلتے پھرتے کھانا کھانا نسبتاً غیر معمولی بات ہے اس لیے لوگ باہر ہوتے ہوئے کم کچرہ پیدا کرتے ہیں۔
پروفیسر سینیاور اپنے روزمرہ کے معمولات پر غور کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ انہیں معلوم نہیں کہ گھر سے کام تک اور واپسی کے دوران ٹرانزٹ میں کتنا کچرہ پیدا ہوتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سفر کے دوران کچرہ پیدا کرنے کے مواقع بھی کم ہوتے ہیں کیونکہ جاپان میں پیدل چلتے ہوئے یا ٹرین پر سفر کرتے ہوئے کھانا کھانا غیر معمولی بات ہے۔
دوسری طرف سیاح شہر کا تجربہ ایک الگ انداز میں کرتے ہیں کیونکہ وہ طویل دن سیر و تفریح میں گزارتے ہیں، مشروبات اور سہولت بخش اسٹورز سے اشیاء خریدتے ہیں اور اس وجہ سے وہ اکثر ایسی پوزیشن میں ہوتے ہیں جہاں ان کے پاس کچرہ موجود ہوتا ہے لیکن اسے پھینکنے کے لیے کوئی واضح جگہ دکھائی نہیں دیتی۔
ٹوکیو میں مقیم ٹور گائیڈ جونکو یوکو کا کہنا ہے کہ کچرے کے ڈبے آسانی سے دستیاب نہ ہونا سیاحوں کے لیے شروع میں الجھن اور مایوسی کا باعث بن سکتا ہے۔تاہم وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ بہت سے سیاح اس صورتحال کے ساتھ جلد ہی خود کو ڈھال لیتے ہیں۔
جونکو یوکو بتاتی ہیں کہ پہلے پہل ان کے مہمان دستیاب کچرے کے ڈبوں کی کمی پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ سڑکوں پر کوئی کچرہ نہ ہونے کو دیکھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں اور جب روما تو روما کرو والی سوچ کو اپنانا سیکھ جاتے ہیں۔پروفیسر سینیاور مزید کہتی ہیں کہ سیاحوں کے خیالات کے برعکس کچرے کے ڈبے مکمل طور پر غائب نہیں ہوئے ہیں بلکہ آپ کو صرف یہ معلوم ہونا چاہیے کہ انہیں کہاں تلاش کرنا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ٹرین اسٹیشنوں پر اب بھی کچرے کے ڈبے موجود ہوتے ہیں جو اکثر ٹکٹ گیٹس کے قریب شفاف ڈبوں کی شکل میں رکھے جاتے ہیں جہاں عملہ یا سیکیورٹی کیمرے ان کی نگرانی کر سکتے ہیں۔
اس ماہ کے دوران ٹوکیو کے شنجوکو اسٹیشن نے اس مسئلے کا شاید سب سے زیادہ جاپانی حل آزمائش کے طور پر شروع کیا ہے جس میں کچرا جمع کرنے والے گھومنے والے روبوٹ سڑکوں پر گردش کرتے ہیں۔
جب تک یہ روبوٹ عام معمول کا حصہ نہیں بن جاتے اس وقت تک سیاحوں کو بس وہی کرنا ہوگا جو ٹوکیو کے رہائشی طویل عرصے سے کرتے چلے آ رہے ہیں یعنی اپنے کچرے کو اس وقت تک اپنے پاس سنبھال کر رکھنا ہوگا جب تک کہ انہیں اسے پھینکنے کے لیے کوئی مناسب جگہ نہیں مل جاتی۔




