حکومت

مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل مہنگا

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیزی کا رجحان پایا جا رہا ہے اور خام تیل کی قیمت 101 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا چکی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مربن خام تیل ساڑھے سات فیصد اضافے کے بعد ایک سو اٹھارہ ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ برینٹ خام تیل کی قمیت 3 ڈالر اضافے کے بعد ایک سو ایک ڈالر فی بیرل اور ڈبلیو ٹی آئی 1 ڈالر اضافے کے ساتھ ستانوے ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔

تیل کی قیمتوں پر دباؤ اور اسباب:

اگست کے اوائل میں ریکارڈ کی گئی کم ترین سطح کے مقابلے میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 30 فیصد تک کا اضافہ ہو چکا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان حملے روکنے کے لیے کسی بھی مستقل معاہدے کا طے نہ پانا اور اگست کے اواخر میں لڑائی کا دوبارہ شروع ہونا تیل کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رکھنے کی بنیادی وجوہات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی مارکیٹ میں خام تیل مسلسل چوتھے سیشن میں بھی مہنگا

تیل کی ترسیل کے راستوں کو خطرات:

ماہرین کا کہنا ہے کہ فریقین کے ایک دوسرے کے خلاف جوابی حملوں کے نتیجے میں خلیج فارس سے تیل کی ترسیل مستقبل قریب میں بھی متاثر رہنے کا خدشہ ہے۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے آبنائے ہرمز کے راستے سے تیل کی ترسیل دنیا بھر کی مجموعی تیل اور گیس کی فراہمی کا تقریباً پانچواں حصہ تھی، لیکن اب جنگ کے بعد اس راستے سے ترسیل معمول کی سطح سے کہیں زیادہ کم ہو چکی ہے۔

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ:

عالمی حالات کے اثرات کے پیش نظر پاکستان میں بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے دن بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اوگرا کی جانب سے 10 ستمبر کے لیے جاری کردہ نئے نوٹی فکیشن کے مطابق ملک میں فی لیٹر ڈیزل پر 6 روپے 72 پیسے اور پیٹرول پر 3 روپے 40 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 367 روپے 75 پیسے جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 392 روپے 67 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 3 دنوں کے دوران پیٹرول مجموعی طور پر 21 روپے 88 پیسے اور ڈیزل 14 روپے 62 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا جا چکا ہے۔