سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے اجلاس میں اسلام آباد فوڈ سیفٹی بل کے مسودے پر غور کیا گیا ہے جس کے دوران اسکولوں کے اندر اور اطراف میں انرجی ڈرنکس کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ اس اہم اجلاس کی صدارت کامل علی آغا کی جانب سے کی گئی۔
اجلاس کے دوران سینیٹر ثمینہ زہری نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ دارالحکومت اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کے اندر انرجی ڈرنکس فروخت کی جا رہی ہیں جو کہ معصوم بچوں کی صحت کیلیے انتہائی خطرناک ہیں۔ کمیٹی کے تمام ارکان نے کم عمر بچوں میں انرجی ڈرنکس کے بڑھتے ہوئے رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: روزانہ انرجی ڈرنکس کے استعمال نے 22 سالہ نوجوان کو چلنے پھرنے سے محروم کر دیا
تجویز کردہ جرمانوں کی تفصیلات:
پیش کیے گئے اسلام آباد فوڈ سیفٹی بل کے مسودے میں واضح طور پر اسکولوں کے اندر اور اس کے اردگرد انرجی ڈرنکس کی فروخت کی مکمل ممانعت کی تجویز دی گئی ہے۔ قانون کی اس خلاف ورزی پر متعلقہ عناصر یا افراد پر 2 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کرنے کی تجویز بھی شامل کی گئی ہے۔




