ڈونلڈ ٹرمپ کے نام نٹالی ہارپ کے خطوط منظر عام پر: وائٹ ہاؤس اور سیاسی حلقوں میں نئی بحث

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قریبی معاون نٹالی ہارپ کی جانب سے 2023 میں لکھے گئے 2 ذاتی نوعیت کے خطوط منظرعام پر آنے کے بعد ان کے غیر معمولی تعلق، وفاداری اور وائٹ ہاؤس میں بڑھتے اثرورسوخ پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ اگرچہ ان خطوط کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی، تاہم وائٹ ہاؤس ہارپ کو صدر کی انتہائی وفادار اور محنتی معاون قرار دے کر ان کا دفاع کر رہا ہے۔

جذبات سے بھرے ان خطوط میں نٹالی ہارپ نے صدر ٹرمپ کو اپنا ‘محافظ اور نگہبان’ قرار دیتے ہوئے معافی، منظوری اور قربت کی شدید خواہش کا اظہار کیا ہے۔ ایک خط ‘محترم صدر’ سے شروع ہو کر ‘اپنے پورے دل کے ساتھ، نٹالی’ کے الفاظ پر ختم ہوتا ہے، جس میں انہوں نے لکھا کہ وہ دونوں کے درمیان معاملات درست رکھنا چاہتی ہیں اور ٹرمپ کے لیے خوشی کا باعث بننا چاہتی ہیں۔ انہوں نے اپنے رویے پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ صدر کو کبھی مایوس نہیں کرنا چاہتیں۔

خطوط کے مندرجات اور ان کے سامنے آنے کا پس منظر:

دوسرے خط میں ہارپ نے اپنے سابق ٹیلی وژن پروگرام کے دور کو یاد کرتے ہوئے وہ دن یاد کیے جب ٹرمپ انہیں فون کر کے کام کے علاوہ دیگر موضوعات پر بات کرتے تھے۔ انہوں نے لکھا کہ اگر وہ ناکام ہوں تو انہیں بتایا جائے اور ڈانٹنے کا حق استعمال کیا جائے، کیونکہ ان کے بقول کوئی شخص ان کی اتنی پروا نہیں کرتا جتنی ٹرمپ کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران صحیح معاہدہ کیلئے تیار نہیں، ہرمز پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے،ٹرمپ

یہ خطوط امریکی مصنف اور ٹرمپ کے سوانح نگار مائیکل وولف نے حاصل کیے تھے، جو 2024 کی انتخابی مہم پر کتاب کے لیے مواد جمع کر رہے تھے۔ رپورٹس کے مطابق یہ خطوط انتخابی مہم کے ان ذرائع سے سامنے آئے جو ہارپ کے صدر کے ساتھ بڑھتے ہوئے اثرورسوخ پر تشویش رکھتے تھے، جس نے ذاتی اور انتظامی حدود پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

‘ہیومن پرنٹر’ سے اہم معاون تک کا سفر:

ہارپ صدر کی روزمرہ سرگرمیوں میں انتہائی نمایاں کردار ادا کرتی رہی ہیں اور انہیں ‘ہیومن پرنٹر’ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ٹرمپ کے لیے خبریں، مضامین اور سوشل میڈیا مواد پرنٹ کر کے پہنچاتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ سوشل میڈیا پوسٹس کی تیاری، پیغامات کی ترسیل، ملاقاتوں کے انتظام اور مختلف افراد سے رابطے کا کام بھی سنبھالتی ہیں۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت میں وہ ان کے اندرونی حلقے کی نمایاں علامت بن چکی ہیں اور غیر ملکی رہنما و ان کے نمائندے بھی صدر تک رسائی اور پیغامات پہنچانے کے لیے ان سے رابطہ کرتے ہیں، جس سے ان کی سیاسی و انتظامی اہمیت کافی بڑھ گئی ہے۔

طیارے کی تبدیلی کا واقعہ اور عدالت کا سفر:

ہارپ کے کردار پر بحث اس وقت مزید تیز ہوئی جب جارجیا کے ڈیموکریٹ سینیٹر جان اوسوف نے انتخابی تقریر میں ان کا نام لے کر ٹرمپ پر تنقید کی۔ یہ واقعہ قطر سے منسوب ایک طیارے اور ترکیہ کے سفر کے دوران ممکنہ ایرانی خطرے کے پیش نظر ٹرمپ اور قریبی معاونین کے چھوٹے طیارے میں منتقل ہونے سے جڑا تھا، جس کے بعد ہارپ کا نام سیاسی بحث کا مرکز بن گیا۔

اس سے قبل 2023 میں نیویارک میں ایک عدالتی پیشی کے موقع پر کار میں نشست نہ ہونے کے باوجود وہ مبینہ طور پر گاڑی کے ٹرنک (پچھلے حصے) میں بیٹھ کر سفر کرنے پر تیار ہو گئی تھیں، کیونکہ ان کے بقول ٹرمپ نے انہیں ساتھ آنے کا کہا تھا اور وہ پیچھے نہیں رہنا چاہتی تھیں۔

وائٹ ہاؤس کے اندرونی اختلافات اور انتظامی دفاع:

وائٹ ہاؤس کے بعض سینیئر اہلکار بھی ہارپ کے طریقۂ کار سے ناخوش رہے ہیں اور انہیں اندرونی حلقے سے دور رکھنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ نقادوں کے مطابق ایک ایسا معاون جو دن بھر صدر کے ساتھ رہے، اجلاسوں میں بیٹھے اور معلومات کے بہاؤ پر اثر انداز ہو، اس کی ترجیحات کا اثر حکومتی عمل پر پڑنا ناگزیر ہے۔

ہارپ کا پس منظر قدامت پسند میڈیا سے ہے اور 2019 میں انہوں نے ٹرمپ کے ‘رائٹ ٹو ٹرائی’ قانون کو اپنی زندگی اور علاج سے جوڑا تھا۔ اس کے بعد ٹرمپ نے انہیں 2020 کے ریپبلکن کنونشن میں خطاب کا موقع دیا اور وہ ان کے قریب ہوتی گئیں۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ان کی کارکردگی، ہم آہنگی اور محنت ہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر صدر انہیں اپنے قریب رکھتے ہیں۔ 2026 کے موجودہ سیاسی ماحول میں یہ معاملہ ٹرمپ کے طرزِ حکمرانی پر تنقید کا نیا ذریعہ بن سکتا ہے۔