وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت راولپنڈی میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے 6 ماہ کی مدت کے لیے پاک فوج کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے، جس کا رسمی نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر سیکورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
نوٹیفکیشن کی تفصیلی دستاویز کے مطابق راولپنڈی میں پاک فوج کی 3 کمپنیاں تعینات کی جائیں گی، جن میں 400 سے زائد اہلکار شامل ہوں گے۔ یہ تمام اہلکار ضلع راولپنڈی میں لاء اینڈ آرڈر کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ کی معاونت کریں گے۔

ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے سیکورٹی تدابیر:
حکومتی احکامات میں واضح کیا گیا ہے کہ پاک فوج کو کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال، بدامنی اور نقصِ امن کا باعث بننے والے عوامل سے نمٹنے کے لیے تعینات کیا جا رہا ہے۔ فوج کے جوان شہر کے حساس مقامات اور اہم شاہراہوں پر سیکیورٹی کے تمام امور میں ضلعی انتظامیہ کو مکمل معاونت فراہم کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن ردالفتنہ 3: زیارت، ہرنائی اور سوراب میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 9 سے زائد دہشتگرد ہلاک
پنجاب حکومت کی درخواست اور منظوری کا طریقہ کار:
ذرائع کے مطابق راولپنڈی میں پاک فوج کی اس تعیناتی کا حتمی فیصلہ ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی جانب سے ارسال کی جانے والی درخواست پر کیا گیا۔ پنجاب حکومت کی اس ریکوزیشن پر غور کے بعد وفاقی وزارت داخلہ نے باقاعدہ منظوری دی۔
پاک فوج کی تعیناتی کی کل مدت چھ ماہ کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ اس تمام عرصے کے دوران فوجی اہلکار شہر میں امن و امان کی پائیدار صورتحال برقرار رکھنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مشترکہ فرائض انجام دیتے رہیں گے۔




