ترجمان وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر شوکت جاوید میر اور مقامی شہریوں نے آزاد کشمیر میں جاری پرتشدد مظاہروں، جلاؤ گھیراؤ اور کاروبار کی معطلی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت، پالیسی ساز اداروں اور مظاہرین سے فوراً ڈائیلاگ کا آغاز کرنے پر زور دیا ہے، جبکہ شہریوں نے عام زندگی اور کاروبار کے معطل ہونے کا ذمہ دار کلعدم ایکشن کمیٹی کو قرار دیا ہے۔
شوکت جاوید میر نے اپنے بیان میں کہا کہ پرامن احتجاج عوام کا انسانی اور آئینی حق ہے، لیکن جب آئینی حدود کو عبور کیا جاتا ہے اور بے لگام آزادی کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو یہ صورتحال انتشار میں بدل جاتی ہے، اور اس انتشار کو روکنا حکومت کا بنیادی کام ہوتا ہے۔ انہوں نے پرتشدد مظاہروں میں بے گناہ انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت نہ صرف پاکستان اور آزاد کشمیر کی دیرینہ مفاہمت کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے بلکہ آزاد کشمیر کی معیشت کو اربوں کا مالی نقصان بھی پہنچا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایل او سی پر بھارتی فوج کالعدم ایکشن کمیٹی کی ویڈیوز بڑی سکرین پرچلانے لگی
سیاحت، معیشت اور نجی و سرکاری املاک کا نقصان
شوکت جاوید میر نے افسوس کا اظہار کیا کہ ریاست میں سیاحت اپنے عروج پر تھی جو اس کشیدگی کی لپیٹ میں آ گئی ہے، جبکہ آنے والی نسلوں کی ترقی کا بنیادی اور طاقتور وسیلہ بھی متاثر ہوا ہے۔
انہوں نے حکومتِ آزاد کشمیر، حکومتِ پاکستان اور تمام پالیسی ساز اداروں پر زور دیا کہ وہ مظاہرین کے ساتھ فوراً ڈائیلاگ کا آغاز کریں اور اپنی پالیسی پر ازسرِنو نظرثانی کریں، کیونکہ باہمی مکالمہ ہی کامرانی کا واحد طریقہ ہے۔
انتشاری سیاست، بدتمیزی کے کلچر اور کاروباری تباہی پر شہریوں کا ردعمل
مقامی شہریوں کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کو پورے پاکستان میں ایک پرامن خطے کے طور پر جانا جاتا تھا اور اس کی مثالیں دی جاتی تھیں، لیکن افسوس کہ یہاں انتشاری سیاست کے ذریعے لوگوں کا مزاج خراب کیا گیا۔ نوجوانوں کو بدتمیزی کا کلچر سکھایا گیا جبکہ جلاؤ گھیراؤ کے ذریعے سرکاری اور نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا، جو کہ ایک نیا اور خطرناک رجحان ہے۔ اس صورتحال سے عوام بالخصوص کاروباری طبقہ شدید پریشان اور پس کر رہ گیا ہے، جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
شہریوں نے بتایا کہ خطے کی روایت کے مطابق غم یا فوتگی کی صورت میں بھی دو دن دکانیں بند رہتیں اور تیسرے دن کاروبار معمول پر آ جاتا تھا، لیکن گزشتہ ۲ سے ۳ مہینوں میں مسلسل کاروباری بندش اور لاک ڈاؤن کے باعث بے شمار مالی نقصان ہوا ہے۔
مفاہمت، اتحاد اور الیکشن کے بعد کی صورتحال
شہریوں نے کہا کہ مسلمان آپس میں رحم دل اور نرم مزاج ہوتے ہیں، اس لیے ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے نرم دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیبل ٹاک کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پرامن علاقے کو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی ہے، جبکہ برکت صرف اتفاق اور اتحاد میں ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں: چوہدری یٰسین ان ایکشن،طارق سعید سمیت پیپلزپارٹی کے10 اہم عہدیدار فارغ
ایک شہری نے نشاندہی کی کہ انتہائی مشکل ترین حالات میں الیکشن منعقد ہوئے اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے قول کے مطابق جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے۔ اب چونکہ نئی حکومت قائم ہونے جا رہی ہے، اس لیے اسکولوں اور کاروبار کے نقصان کو مدنظر رکھتے ہوئے انتشاری سیاست کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ شہریوں نے تمام عوام سے اپیل کی کہ اس انتشاری سیاست کو مکمل طور پر رد کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے ماحول کو دوبارہ پرامن بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔




